ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز پر مکمل اختیار رکھتا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے بحری جہازوں کو اس کے جنوبی راستے سے نکالنے کی ضمانتیں بے بنیاد ہیں۔
اپنے ایک ویڈیو بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ملک کی عسکری فورسز اس اہم گزرگاہ سے غیر ملکی جہازوں کو گزارنے کی ہر امریکی کوشش کو ناکام بنا رہی ہیں ۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ حریف قوتیں چند بحری جہازوں کو نکالنے میں ضرور کامیاب ہوئی ہیں، تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایران کا ہرمز پر دباؤ برقرار ہے اور وہ اسے آزادانہ ٹریفک کے لیے کھولنے سے گریزاں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اس آبی گزرگاہ کے جنوبی روٹ کو استعمال کرنے کے لیے معاہدوں کی صریح خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے، اور جو جہاز اس راستے کو استعمال کرنے کی کوشش کریں گے انہیں کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکہ کے سامنے بڑی شرط رکھ دی
ایرانی اسپیکر نے خطے میں امریکی بحری موجودگی کو عملی طور پر ایک عسکری محاصرہ قرار دیتے ہوئے تنبیہ کی کہ اگر اس دباؤ میں مزید اضافہ کیا گیا تو تہران کی طرف سے بھرپور عسکری جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر عالمی طاقتوں کا مقصد ایران کی تیل ترسیل کو سبوتاژ کرنا ہے، تو پھر اس خطے سے کسی بھی ملک کو تیل کی برآمد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔





