آئی سی ڈیزائن کی تربیت لینے والے نوجوان ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے کما سکتے ہیں

Pakistan SCO Summit 2026

اسلام آباد: وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ انٹیگریٹڈ سرکٹ (آئی سی) ڈیزائن کی تربیت حاصل کرنے والے نوجوان انجینیئرز پاکستان میں باآسانی 150,000 روپے ماہانہ یا اس سے زائد کما سکتے ہیں۔

وزارت آئی ٹی کے مطابق حکومت ملک میں ٹیکنالوجی کی خصوصی مہارتوں کے فروغ اور نوجوان انجینیئرز کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں وزارت کے ذیلی ادارے نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ (اِگنائٹ) کی مالی معاونت اور فاسٹ-نوسیز کے اشتراک سے جدید تربیتی پروگرام مکمل کیا گیا۔

پروگرام کے تحت ملک کے 20 مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 30 ذہین انجینیئرز کا انتخاب کیا گیا، جن میں 7 خواتین بھی شامل تھیں۔

شرکا کو ایڈوانسڈ آئی سی ڈیزائن، وی ایل ایس آئی ویری فکیشن، سسٹم آن چپ (SoC) آرکیٹیکچر اور انڈسٹری کے معیاری ڈیزائن ٹولز پر اعلیٰ درجے کی تربیت دی گئی، جبکہ چپ ٹیپ آؤٹ اور مائیکرو چپس کی فیبریکیشن کے عملی طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیا۔

وزارت کے مطابق تربیتی پروگرام کے نتائج بھی حوصلہ افزا رہے اور 30 میں سے 23 نوجوان انجینیئرز نے تربیت مکمل کرنے کے بعد فوری طور پر پاکستان کی ابھرتی ہوئی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں ملازمتیں حاصل کرلیں، جبکہ باقی 7 انجینیئرز نے اعلیٰ تعلیم اور مزید مہارت کے حصول کے لیے ماسٹرز ڈگری پروگرامز میں داخلہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا بین الاقوامی بانڈ جاری کردیا

اِگنائٹ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق آئی سی ڈیزائن اور ویری فکیشن کے شعبے میں نئے پروفیشنلز کی ابتدائی ماہانہ تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہوتی ہے، جو اس شعبے میں ہنرمند افراد کی مارکیٹ ڈیمانڈ کو ظاہر کرتی ہے۔

وزارت کے مطابق سیمی کنڈکٹر اور مائیکرو چپس کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ پاکستان کے نوجوان انجینیئرز کے لیے روزگار اور ہائی ٹیک شعبے میں ترقی کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

اِگنائٹ اور وزارت آئی ٹی کے اقدامات سے ملک میں چپ ڈیزائننگ اور جدید آئی ٹی مہارتوں کی بنیاد مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

یہ پروگرام حکومت کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کو عالمی آئی ٹی مارکیٹ میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا، نوجوانوں کے لیے جدید ہنر اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور قیمتی انسانی سرمائے کے بیرون ملک انخلا کو کم کرنا ہے۔

پروگرام میں 7 خواتین کی شمولیت کو بھی ہائی ٹیک شعبوں میں خواتین کی حوصلہ افزائی اور شمولیت کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومتی سطح پر ایسے پروگرامز کو مزید وسعت دینے سے ملک کے ہزاروں نوجوانوں کو سیمی کنڈکٹر اور چپ ڈیزائننگ جیسے جدید شعبوں میں تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top