استخاراحمد یوسفزئی
صوابی: صوابی کے علاقے مہرعلی میں صبح سویرے سکول جانے والی کمسن طالبات کو راستہ عبور کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں کازوے نہ ہونے کے باعث بارش کا پانی راستے میں جمع ہوجاتا ہے اور طالبات کو مجبوراً پانی سے گزر کر سکول جانا پڑتا ہے۔
صوبے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور صوبائی کابینہ سندھ اسٹریٹ موومنٹ سمیت مختلف سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہے، تاہم دوسری جانب صوبے کے کئی علاقوں میں بنیادی سہولیات اور آمدورفت کے مسائل بدستور موجود ہیں۔
مہرعلی کا یہ منظر بھی حکومتی کارکردگی اور ترجیحات پر سوالات اٹھا رہا ہے، جہاں کمسن طالبات کو محفوظ راستہ تک میسر نہیں۔
مقامی افراد کے مطابق بارش کے بعد مذکورہ راستہ عبور کرنا نہ صرف دشوار بلکہ کمسن طالبات کے لیے خطرناک بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد، بالائی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تیز بارش کا امکان، محکمہ موسمیات کی پیشگوئی
راستے میں پانی جمع ہونے سے ان کی تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں اور روزانہ سکول آنے جانے میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، دہشتگردی کے واقعات عروج پر ہیں اور فورسز ملک و قوم کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں۔
ایسے حالات میں شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
اہلِ علاقہ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مہرعلی میں فوری طور پر کازوے تعمیر کیا جائے تاکہ طلبہ و طالبات کو محفوظ اور آسان راستہ فراہم کیا جا سکے اور بارش کے دوران انہیں پانی سے گزرنے کی اذیت سے نجات مل سکے۔





