جماعت اسلامی اور حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مثبت فضا میں منعقد ہوا، جس میں حکومت نے جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر غور کے لیے تین دن کی مہلت مانگ لی ہے۔
وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان لیوی کی قیمت میں اضافے اور مہنگائی پر مذاکرات ہوئے ، جس میں حکومتی او جماعت اسلامی کی کمیٹی کے اراکین شریک ہوئے ۔
نمذاکرات کے بعد نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے 6 اہم تجاویز رکھی ہیں جن کا حکومتی ٹیم جائزہ لے گی۔
اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے مزید انکشاف کیا کہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں مقررہ بجٹ ہدف سے زیادہ وصولی کی ہے۔
ان کا کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا عمل اپنی جگہ جاری رہے گا، تاہم مطالبات کی منظوری تک جماعت اسلامی کا احتجاج بھی ساتھ ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
دوسری جانب مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر احسن اقبال نے میڈیا کو بتایا کہ جمعرات کے روز فریقین کے درمیان دوبارہ ملاقات اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کوئی بھی حکومت ملک میں بدامنی یا احتجاج کی خواہاں نہیں ہوتی، البتہ بعض اوقات حکومتی امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ جماعت اسلامی کی تمام تجاویز کو فوری طور پر متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو ارسال کر دیا گیا ہے۔





