کاشف عزیز
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے حیات آباد پوسٹ گریجویٹ کالج میں پرنسپل اور خواتین اساتذہ کو ہراساں کرنے اور بعد ازاں پولیس کی جانب سے طلبہ پر مبینہ تشدد کے واقعات پر کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور نے اعلیٰ سطح کی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔
سی سی پی او دفتر سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کالج میں بعض شرپسند عناصر نے داخل ہو کر امن و امان کی صورتحال خراب کی۔ رپورٹ کے مطابق ان عناصر نے پرنسپل، فیمل سٹاف اور تمام فیکلٹی ممبران کو ہراساں کیا، ڈرایا دھمکایا اور کالج کے مرکزی دروازے اندر سے بند کر کے شدید خوف و ہراس پھیلایا۔
یہ بھی پڑھیں : نئی آٹو پالیسی: گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خبر
واقعے کی اطلاع ملتے ہی کالج انتظامیہ کی ہنگامی درخواست پر تحفظ کی فراہمی اور امن و امان بحال کرنے کے لیے پولیس کی نفری موقع پر پہنچی۔ تاہم واقعے کے کچھ ہی دیر بعد سوشل میڈیا پر متنازع ویڈیوز وائرل ہونا شروع ہو گئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے طلبہ کو ہراساں کیا اور ان پر تشدد کیا۔
عوامی تشویش اور الزامات کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او پشاور نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو فیکٹ فائنڈنگ انکوائری افسر مقرر کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بحرین سے گرفتار ممتازے کی مبینہ ہلاکت،پشاور ہائیکورٹ کا بڑا کا حکم
انکوائری افسر واقعے میں ملوث شرپسند عناصر کے کردار، پولیس اہلکاروں کے رویے اور ان پر عائد تشدد و ہراسانی کے الزامات کی حقیقت جانچیں گے۔
اس کے علاوہ فریقین کے باضابطہ بیانات، وائرل ویڈیوز اور دیگر تمام دستیاب شواہد کا جائزہ لے کر تمام حقائق پر مبنی رپورٹ جلد از جلد واضح سفارشات کے ساتھ پیش کی جائے گی تاکہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی اور ڈسپلنری کارروائی کی جا سکے۔





