ہارون شنواری
ضلع خیبر: تحصیل لنڈی کوتل سے اغوا ہونے والے تاجر محمد ظریف عرف حاجی لنڈے کو پولیس نے بازیاب کرا لیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) خیبر نے پریس کانفرنس میں مغوی کی بازیابی اور اغوا کیس کی تحقیقات سے متعلق تفصیلات بتادیں۔
ڈی پی او خیبر کے مطابق حاجی ظریف کے اغوا کی رپورٹ 7 اگست کو درج کی گئی تھی، جس کے بعد پولیس نے مختلف زاویوں سے جدید سائنسی بنیادوں پر تفتیش شروع کی۔ تحقیقات میں خیبر رائفلز، فرنٹیئر کور، سی ٹی ڈی، آئی بی اور ایف آئی اے سمیت مختلف اداروں نے پولیس کے ساتھ تعاون کیا۔
ڈی پی او نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران حاصل کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر چار مرکزی ملزمان کی نشاندہی ہوئی، جن میں مبینہ رنگ لیڈر حاجی احمد، نوید، ثواب اور نور کلام شامل ہیں۔
ان کے مطابق ملزمان کی لوکیشن اور سی ڈی آر حاصل کیے گئے تو ان کی موجودگی کراچی میں سامنے آئی، تاہم بعد میں ملزمان نے اپنے موبائل فون بند کردیے۔ پولیس نے ملزمان کے گھروں پر چھاپے مارے اور کارروائی کے دوران 16 سے 17 افراد کو گرفتار کیا۔
ڈی پی او خیبر نے بتایا کہ تفتیش کے دوران ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا، جس سے پوچھ گچھ کے بعد مغوی حاجی ظریف کے بارے میں اہم سراغ ملا۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ حاجی ظریف کو ایک گھر میں رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ایم پی اے عبدالغنی کے آبائی علاقے میں مریض آج بھی چارپائیوں پر ہسپتال جانے پر مجبور
ان کے مطابق پولیس نے نشاندہی پر کارروائی کرتے ہوئے مزید دو افراد کو گرفتار کیا، جنہوں نے مبینہ طور پر بتایا کہ مغوی کو بعد میں پہاڑی علاقے میں منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس ٹیم نے ملزمان کی نشاندہی پر پہاڑی علاقے میں کارروائی کی اور محمد ظریف عرف حاجی لنڈے کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔
ڈی پی او خیبر کا کہنا تھا کہ کارروائی کے مختلف مراحل کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی تاکہ تمام شواہد محفوظ رہیں۔
دوسری جانب لنڈی کوتل پولیس نے مغوی تاجر ظریف شینواری کو بھی بازیاب کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
مغوی تاجروں کی بازیابی پر علاقہ مکینوں اور تاجر برادری نے پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔





