سہیل آفریدی کے آبائی ضلع میں تعلیمی نظام کی زبوں حالی، 200 طلبہ کیلئے صرف 2 اساتذہ، بچے فرش پر بیٹھنے پر مجبور

Pakistan SCO Summit 2026

ضلع خیبر: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے آبائی ضلع خیبر سے سرکاری سکول کی ایک اور تشویشناک تصویر سامنے آگئی، جہاں ورمنڈومیلہ بوائز پرائمری سکول کے تقریباً 200 طلبہ خستہ حال عمارت اور ناکافی تعلیمی سہولیات کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق ورمنڈومیلہ بوائز پرائمری سکول کی عمارت 1975ء میں تعمیر کی گئی تھی اور تقریباً نصف صدی گزرنے کے بعد تین کمروں پر مشتمل عمارت انتہائی بوسیدہ ہوچکی ہے۔ عمارت کی موجودہ صورتحال کے باعث کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

سکول میں تقریباً 200 بچے زیر تعلیم ہیں، تاہم ان کیلئے صرف دو اساتذہ تعینات ہیں جو ساتوں جماعتوں کو پڑھانے کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ ایک ہی استاد کو بیک وقت دو کلاسز سنبھالنا پڑتی ہیں، جبکہ بعض طلبہ کیلئے الگ استاد بھی دستیاب نہیں۔

سکول میں بنیادی سہولیات کی کمی بھی نمایاں ہے۔ شدید گرمی میں کلاس رومز میں پنکھوں اور سولر سسٹم کی سہولت موجود نہیں، جبکہ جگہ کی کمی کے باعث بعض بچے فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق سکول کے کمروں میں سامان رکھنے کے باعث تعلیمی سرگرمیوں کیلئے دستیاب جگہ مزید محدود ہوگئی ہے۔ بعض کلاسز کو ایک ہی کمرے میں اکٹھا کرکے پڑھایا جارہا ہے جبکہ کچھ بچے باہر یا کھلے ماحول میں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ایم پی اے عبدالغنی کے آبائی علاقے میں مریض آج بھی چارپائیوں پر ہسپتال جانے پر مجبور

مقامی آبادی نے حکومتی دعوؤں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وقتاً فوقتاً سکولوں کی حالت بہتر بنانے اور سولر سسٹم سمیت دیگر سہولیات فراہم کرنے کے وعدے کیے جاتے رہے، تاہم عملی طور پر بنیادی مسائل آج بھی موجود ہیں۔

ورمنڈومیلہ سکول کی صورتحال نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کیلئے بھی ایک بڑا سوال کھڑا کردیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر صوبے کے وزیراعلیٰ کے اپنے آبائی ضلع کے ایک سرکاری سکول میں تقریباً 200 بچوں کیلئے صرف دو اساتذہ ہوں، عمارت خستہ حال ہو اور طلبہ بنیادی سہولیات سے محروم ہوں تو دور دراز اضلاع کے سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنے آبائی ضلع کے تعلیمی اداروں کی صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ ان کے مطابق محض رنگ و روغن یا وقتی مرمت کے بجائے سکول کی عمارت کو ازسرنو تعمیر کرنے اور طلبہ و اساتذہ کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

مقامی افراد نے حکومت خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ ورمنڈومیلہ بوائز پرائمری سکول کی خستہ حال عمارت کو فوری طور پر تبدیل کرکے نئی عمارت تعمیر کی جائے، مزید کلاس رومز بنائے جائیں، بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور طلبہ کی تعداد کے تناسب سے مزید اساتذہ تعینات کیے جائیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بچوں کو محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس لیے ورمنڈومیلہ سکول کے مسئلے کو مزید نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top