اسلام آباد کی سرحد یونیورسٹی انتظامیہ نے اساتذہ اور طلبہ کے درمیان تنازع کے بعد ڈاکٹر اینا اور جادون کو ملازمت سے فارغ کردیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق دونوں افراد کی خدمات ختم کردی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر اینا، کرنل اسفندیار کی اہلیہ ہیں، جن پر فائرنگ کے ایک واقعے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد یونیورسٹی کی سطح پر بھی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی، جس میں طلبہ اور ایک وردی پوش شخص کے درمیان تلخ کلامی کے بعد صورتحال کشیدہ ہوتی دکھائی دی۔
ویڈیو میں وردی پوش شخص کی جانب سے مبینہ طور پر پستول نکالنے اور ہوائی فائرنگ کرنے کا منظر بھی دیکھا گیا۔
طلبہ کے مطابق وہ ایک استاد کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔





