افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے، واشنگٹن پوسٹ

Pakistan SCO Summit 2026

امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ نائن الیون کے 25 سال بعد افغانستان ایک بار پھر القاعدہ کے لیے تربیتی مرکز بنتا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے اقتدار میں آنے کے بعد القاعدہ نے افغانستان میں کم از کم 8 نئے تربیتی مراکز قائم کیے ہیں، جبکہ طالبان نے القاعدہ سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر رکھا ہے جہاں وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں میں القاعدہ کے محفوظ ٹھکانے اور تربیتی کیمپ دوبارہ فعال ہو رہے ہیں، جبکہ القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں نے افغانستان کے کم از کم 14 صوبوں میں اپنی موجودگی قائم کرلی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ اب محض پناہ گاہ تک محدود نہیں بلکہ دیگر دہشت گرد گروہوں کو تربیت اور مشاورت بھی فراہم کر رہی ہے۔ اس حوالے سے القاعدہ کی جانب سے ٹی ٹی پی سمیت دیگر گروہوں کو خفیہ کارروائیوں اور سکیورٹی سے متعلق تربیت دینے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کے ارکان ٹی ٹی پی کے لیے خودکش حملہ آوروں کی تربیت بھی کر رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے افغانستان میں تقریباً 7 ہزار جنگجو موجود ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جو پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے افغانستان کے کم از کم 4 صوبوں میں تربیتی کیمپ قائم کر رکھے ہیں، جہاں القاعدہ اور طالبان کے ملوث ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : طالبان کی پالیسیوں نے افغانستان کو دنیا سے الگ تھلگ کر دیا، افغانوں کے لیے تمام راستے بند ہو چکے ہیں،افغان صحافی سمیع یوسفزئی

رپورٹ میں افغان سرزمین سے پاکستانی فوجی چوکیوں اور دیگر اہداف پر ٹی ٹی پی کے سینکڑوں سرحد پار حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق طالبان کے زیر اثر افغانستان ٹی ٹی پی کے لیے محفوظ پناہ گاہ اور پاکستان مخالف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے ساتھ داعش خراسان بھی اپنے نیٹ ورک کو وسعت دے رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق داعش خراسان نے تقریباً 2 ہزار جنگجو بھرتی کیے ہیں اور شمالی افغانستان کو تربیت اور کارروائیوں کا مرکزی مرکز بنایا ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ، داعش خراسان اور دیگر جہادی تنظیموں کی بڑھتی ہوئی موجودگی خطے کے لیے ایک نئے دہشت گردی کے خطرے کا باعث بن رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان سے لاکھوں ڈالرز منشیات کی سمگلنگ کی کوشش کیسے ناکام بنائی گئی؟ تفصیلات جانئے

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق طالبان رجیم کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کا دوبارہ منظم ہونا عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہے۔ القاعدہ اور داعش خراسان مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک سے بھی نئے جنگجو بھرتی کرنے پر توجہ دے رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس صلاحیتوں میں کمی کے باعث افغانستان میں قائم ہونے والے نئے دہشت گرد تربیتی مراکز کی نگرانی مشکل ہوگئی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ طالبان کے دعووں کے برعکس افغانستان میں القاعدہ، ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کی موجودگی دہشت گردی کے مسلسل خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی دوبارہ منظم ہوتی سرگرمیاں نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیوں کے لیے ایک نیا چیلنج ہیں، جبکہ افغانستان ایک بار پھر ایسا ماحول فراہم کرتا دکھائی دے رہا ہے جہاں القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہ اپنی صلاحیتیں بحال کرسکتے ہیں۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top