اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی احتجاج اور لانگ مارچ کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا

Pakistan SCO Summit 2026

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست نمٹا دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی سیاسی جماعت یا عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کو اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں۔

چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس آصف پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سرکاری مشینری کسی سیاسی جماعت کے احتجاج یا مارچ میں استعمال نہ ہو۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کوئی سرکاری افسر احتجاج یا ریلی میں شرکت کے لیے زبردستی کیے جانے والے احکامات پر عمل نہ کرے۔ ایسے کسی دباؤ کی صورت میں متعلقہ افسر فوری طور پر چیف سیکریٹری، چیف کمشنر یا آئی جی کو آگاہ کرے۔

عدالت نے مزید ہدایت کی کہ سرکاری افسر اپنے ماتحت اہلکاروں کو اسلام آباد آنے والے کسی مارچ یا احتجاج میں شرکت سے روکیں۔ صوبوں کے چیف سیکریٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جیز کو فوری ہیلپ لائن قائم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک، پراسیکیوٹر جنرل منظور ججہ، آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید، چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں موجود تھے۔ چیف سیکریٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا کے بیانات حلفی بھی عدالت میں جمع کرائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : 9 مئی ریڈیو پاکستان کیس، فرانزک رپورٹ میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ملوث ہونے کی تصدیق

عدالت کی اجازت سے پی ٹی آئی کے 2022 اور 2024 کے احتجاج سے متعلق ویڈیوز بھی کمرہ عدالت میں چلائی گئیں۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے احتجاج کے دوران سرکاری مشینری استعمال ہوئی، ڈی چوک میں املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور 2024 میں بھی اسلام آباد میں صورتحال کشیدہ رہی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے قانون موجود ہے اور مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر احتجاج نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 سمیت دیگر انتظامی اقدامات کا اختیار حاصل ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعلیٰ، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو اشتعال انگیز بیانات دینے کا اختیار ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ کسی کو اشتعال انگیز تقریر کا حق نہیں اور پرامن احتجاج کا حق بھی قانون کے تابع ہے۔

بعد ازاں عدالت نے آئی جی خیبرپختونخوا کو روسٹرم پر طلب کیا اور ان سے بیان حلفی سے متعلق استفسار کیا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر کوئی غیر قانونی یا غیر آئینی اقدام ہوتا ہے تو کیا اسے روکا جائے گا؟

آئی جی خیبرپختونخوا نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اگر کوئی غیر قانونی کام ہوا تو اسے روکا جائے گا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ غیر آئینی اجتماع کی صورت میں اسے روکا جائے اور مظاہرین کو منتشر کیا جائے۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہری کی جانب سے دائر درخواست کو عدالتی ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top