وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عام عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی راحت دینے کے لیے وزیراعظم کے 75 ارب روپے کے فیول ریلیف پیکج کی منظوری دے دی گئی ہے۔
اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو ہر ہفتے 500 روپے جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑی رکھنے والوں کو ہر 10 دن بعد 1,000 روپے کی مالی رعایت فراہم کی جائے گی۔
یہ سہولت صرف غیر کمرشل گاڑیوں کے لیے مختص ہوگی اور ایک شخص اپنی صرف ایک گاڑی کے لیے ہی یہ ریلیف حاصل کر سکے گا۔ فیول ریلیف کی شفاف اور حقداروں تک فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے وزارتِ آئی ٹی ایک ڈیجیٹل ’’فیول پاس سسٹم‘‘بھی تیار کرے گی۔
اجلاس میں 2 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی برآمد کرنے کی مشروط اجازت بھی دی گئی، جس کے لیے شرط عائد کی گئی ہے کہ اس سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔
اس کے علاوہ ایس سی او سربراہی اجلاس کے انتظامات کے لیے 15 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی مد میں 3 ارب روپے منظور کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف کا تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام کے لیے خصوصی ریلیف سکیم کا اعلان
ای سی سی نے ملک میں موجودہ آئل ریفائنریوں کو 5 سال کے اندر اپ گریڈ کرنے کے ڈرافٹ معاہدے اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے انتظامی کنٹرول اور مالکانہ نظام کی تنظیم نو کا فریم ورک بھی منظور کر لیا، جبکہ بیرونِ ملک سے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی در آمد کا معاملہ فی الحال کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔





