ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو تقریباً دو ارب اسی کروڑ ڈالر مالیت کا جدید اور بھاری اسلحہ فروخت کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، معاملے سے امریکی کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مجوزہ پیکج میں انتہائی طاقتور اور تباہ کن ہتھیار شامل ہیں، جن میں دو ہزار پاؤنڈ وزنی چالیس ہزار بم فراہم کیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق ان میں خاص طور پر بیس ہزار ایم کے 84 اور بیس ہزار بی ایل یو 117 بموں کے علاوہ بیس ہزار جدید پینیٹریٹر وار ہیڈز بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہیلری کلنٹن کی ٹرمپ پر شدید تنقید، جھوٹ بولنے کا اولمپک چیمپئن قرار دے دیا
واشنگٹن پوسٹ نے مزید لکھا کہ پیکج گزشتہ چند برسوں کے دوران اسرائیل کو منتقل کیے جانے والے اس نوعیت کے ہتھیاروں کے تمام پچھلے ریکارڈ توڑ دے گا ۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حجم کے لحاظ سے اب تک کا سب سے بڑا پیکج ہوگا، خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیل کو اس پیمانے پر تباہ کن ہتھیاروں کی فراہمی کے فیصلے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔





