عمران خان کی ہسپتال منتقلی کیس، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کرلیا

Pakistan SCO Summit 2026

اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل منصور اعوان سے معاونت طلب کرلی کہ وفاقی آئینی عدالت اس معاملے کی سماعت کس اختیار کے تحت کرسکتی ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے گزشتہ روز حکم نامہ جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔

اس موقع پر جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کے حکم میں سرکاری افسران کو طلب کیا تھا لیکن کوئی بھی پیش نہیں ہوا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا افسران کا عدالت میں پیش نہ ہونا حکم عدولی کے زمرے میں نہیں آتا؟

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ فی الحال اس معاملے کو ایک طرف رکھتے ہیں کہ علاج سرکاری یا نجی اسپتال میں ہوگا، یہ بتایا جائے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے دیگر حصوں پر عمل درآمد ہورہا ہے یا نہیں۔ انہوں نے ملاقاتوں اور عمران خان کی بچوں سے بات کرانے کے حوالے سے بھی استفسار کیا۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت قرآن و سنت کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی اور وہ صرف آئین کی تشریح کرسکتی ہے، جبکہ آئین کی تشریح کے علاوہ دیگر معاملات سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم

اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا شریعت بینچ قرآن و سنت کی تشریح کرسکتا ہے۔

جس پر جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ آج درخواستیں خارج کردے یا سماعت نہ کرے؟ کیا سپریم کورٹ وفاقی آئینی عدالت کے حکم کی پابند ہے؟

اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے مطابق وفاقی آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ ہی نہیں بلکہ کیسز بھی طلب کرسکتی ہے، تاہم یہ طے ہونا باقی ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کن حدود میں ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم نامے میں ریکارڈ طلب کرکے کیسز سماعت کے لیے مقرر کرنے کا ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیسز مقرر کرنے کا لفظ انہیں اہم معلوم ہوتا ہے اور اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کریں کہ وفاقی آئینی عدالت یہ کیس کیسے سن سکتی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا لیکن کوئی افسر پیش نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کردیے جائیں؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مناسب ہوگا جیل حکام کو ایک موقع دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں داخل ہونے دینے کا مطلب شہر کی سلامتی کو داؤ پر لگانا ہوگا، رانا ثنا اللہ

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ وفاقی آئینی عدالت سے آئین کی منشا سمجھنا چاہتی ہے اور عدلیہ کے درمیان باہمی احترام کی قائل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے سوالات کا منفی مطلب نہ لیا جائے، یہ صرف معاملہ سمجھنے کے لیے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار آئین میں واضح ہیں۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ تعین کرے گی کہ بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کون سی عدالت سن سکتی ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ بنیادی حقوق کا معاملہ تقریباً ہر کیس میں سامنے آتا ہے، جبکہ شفاف ٹرائل کا بنیادی حق ہر فوجداری مقدمے میں شامل ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت نے مقدمات کا ریکارڈ طلب کرکے انہیں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم اس حکم کے کیا نتائج ہوں گے، اٹارنی جنرل اس نکتے پر عدالت کی معاونت کریں۔

بعد ازاں اٹارنی جنرل منصور اعوان نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے مؤخر کردی جائے۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top