ظفران شہید کیس میں اہم پیشرفت، مرکزی اشتہاری پولیس مقابلے میں ہلاک

Pakistan SCO Summit 2026

کرک: ظفران شہید کیس میں کرک پولیس نے اہم پیشرفت کرتے ہوئے پولیس مقابلے میں نامزد مرکزی اشتہاری نصیب اللہ کو ہلاک کردیا۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والا اشتہاری 9 ستمبر کو پولیس پارٹی پر ہونے والی فائرنگ میں براہِ راست ملوث تھا۔ اس کی فائرنگ سے کانسٹیبل ظفران شہید جبکہ امتیاز زخمی ہوئے تھے۔

کرک پولیس کو اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ اشتہاری نصیب اللہ سرابی کے پہاڑی سلسلے میں چھپا ہوا ہے، جس پر ڈی پی او کرک عمران خان کی نگرانی میں ضلعی پولیس اور دیگر ٹیموں نے علاقے میں چھاپہ زنی شروع کی۔

پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران اشتہاری نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی، جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں نصیب اللہ ہلاک ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں : کرک: شنکئی ڈیم کے قریب پولیس موبائل پر فائرنگ، کانسٹیبل شہید

ڈی پی او کرک عمران خان کا کہنا ہے کہ کرک پولیس کی خصوصی ٹیموں کی انتھک محنت اور بہترین تفتیش کی بدولت اشتہاری کا سراغ لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کیس میں مزید ملوث ملزمان کو بھی قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

دوسری جانب انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کارروائی پر کرک پولیس کو خصوصی شاباش دی اور امن دشمن عناصر کی بیخ کنی کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔

آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس عوام کی جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی سرزمین پر دہشتگردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top