اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعددارلحکومت پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کسی صورت وفاقی دارالحکومت پر دھاوا نہیں بولاجاسکتا۔

اسلام آباد میں وفاقی وزراء کے ہمرا پریس کانفرنس کرتے ہوئے  وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ آج دہشتگردی کا افسوسناک واقعہ ہوا ہے آپ کو زیب نہیں دیتا کہ ایک طرف شہداء کے جنازے اٹھائیں اور دوسری طرف دھرنوں کی تیاری کریں، فورسز کو بتادیا ہے ان کو ہر ممکن طریقے سے روکیں گے، جوانوں کو بتا دیا ہے اب ایسا نہیں کہ وہ گولی چلائیں اورآپ چپ کرکے بیٹھے رہیں۔

محسن نقوی نے واضح کیا کہ اگر کسی نے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی۔

انہوں نے کہا اگر آپ کو احتجاج کرنا ہے تواپنے علاقے اورشہرمیں کریں، سیاسی جلسے جلوس اور جتھوں کی یلغار میں فرق ہوتا ہے ، اگر ایک بھی جان گئی تو اس کے ذمہ دار وہ ہونگے جو اس جتھے کو جمع کررہے ہیں۔

انہوں نے مذیدکہا اپوزیشن رہنماؤں کو کہتا ہوں کہ اس لڑائی سے کوئی فائدہ نہیں، اس میں نقصان ہی نقصان ہے ، ہم ماضی کی طرح بد امنی نہیں پھیلانے دینگے، کوشش ہوگی اسلام آباد کے شہریوں کو کم سے کم زحمت اٹھانا پڑے۔

محسن نقوی نے کہاکہ آج ہم نے ان سے نمٹنے کےلیے تیاری پوری کرلی ہے، تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ہماری تیاری پوری ہے، پی ٹی آئی اپنی پارٹی کے اندر سروے کرالے تو اکثریت کو پتا نہیں ہوگا کہ کیوں آرہے ہیں۔

وفاقی وزیرداخلہ نے کہا خیبرپختونخوا حکومت کا کام ہے کہ وہ قانون پر عملدر آمد کی صورت حال بہتر بنائے، پرامن احتجاج کریں اور اپنے صوبے میں کریں۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کے پی ٹی آئی لانگ مارچ کیخلاف درخواست پر 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسی سرگرمی جس سے بنیادی حقوق متاثر ہوں وہ آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔اسلام آباد کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف وزری آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

Scroll to Top