پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے ویانا میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی 70ویں جنرل کانفرنس کے پلینری اجلاس سے خطاب کیا۔
انہوں نے توانائی، صحت، زراعت، آبی وسائل کے انتظام، جوہری تحفظ و سلامتی اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت جوہری سائنس و ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کے ذریعے پاکستان کی وسیع تر خدمات اور اقدامات کو اجاگر کیا۔
ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کے فروغ میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے مینڈیٹ اور اس کی جانب سے کی جانے والی کاوشوں کے حوالے سے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
انرجی سیکیوریٹی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں جوہری توانائی کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بتایا کہ پاکستان کے چھ آپریشنل جوہری بجلی گھر محفوظ اور مؤثر انداز میں مجموعی طور پر 3,530 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سالانہ تقریباً 15 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بچاؤ میں مدد مل رہی ہے۔
انہوں نے چشمہ-5 (C-5) نیوکلیئر پاور پلانٹ پر تیز رفتار پیش رفت کو بھی اجاگر کیا اور بتایا کہ منصوبہ ڈوم پلیسمنٹ کے مرحلے کی جلد تکمیل کے لیے تیار ہے۔
صحت کے شعبے کے حوالے سے چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بتایا کہ پاکستان میں 83 نیوکلیئر میڈیسن اور ریڈیوتھراپی مراکز موجود ہیں، جن میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے 21 کینسر ہسپتال بھی شامل ہیں، جہاں کینسر کی تشخیص اور علاج کی جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اپریل 2026 میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی لاہور (انمول) کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے کولیبوریٹنگ سینٹر کا درجہ دیا گیا۔
ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے غذائی تحفظ اور آبی وسائل کے انتظام میں پاکستان کے کردار اور خدمات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی (نیاب) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پنسٹیک) کے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے کولیبوریٹنگ سینٹرز کے طور پر کردار کا بھی ذکر کیا۔
چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) کے مشترکہ ایٹمز فار فوڈ اقدام میں پاکستان کی فعال شرکت کو بھی اجاگر کیا۔
جوہری تحفظ اور سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (PNRA)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (NISAS) اور پاکستان سینٹر آف ایکسیلینس فار نیوکلیئر سیکیورٹی (PCENS) کے قومی اور بین الاقوامی سطح پر استعدادِ کار بڑھانے میں کردار کو بھی اجاگر کیا۔
چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے اعلان کیا کہ پاکستان 2027 میں چوتھی انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ (INSO) کی میزبانی کرے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سعودی عرب میں حال ہی میں منعقدہ تیسری انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میں پاکستانی طلبہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک طلائی اور دو چاندی کے تمغے حاصل کیے۔





