میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ہوتا تو کوہاٹ واقعے میں یتیم ہونے والے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھتا، عطا اللہ تارڑ

میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ہوتا تو کوہاٹ واقعے میں یتیم ہونے والے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھتا، عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے استفسار کیا ہے کہ میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ہوتا تو ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر امن و امان پر اجلاس بلاتا، میں وزیراعلیٰ ہوتا تو آج کوہاٹ کے شہدا کے گھر جاتا، یتیم بچوں کے سر پر ہاتھ رکھتا ۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آج کوہاٹ میں واقعہ ہوا، امن و امان کی بنیادی ذمے داری صوبائی حکومت کی ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کا مقابلہ کررہے ہیں اور یہ جھتے لے کر احتجاج کےلیے نکلے ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تاریخ رہی ہے یہ ہمیشہ پرتشدد احتجاج کرتے رہے ہی، پی ٹی آئی والے پرامن رہیں گے، اس بات کی ضمانت کون دے گا؟

انہوں نے کہا کہ سرکاری املاک پر حملے، توڑ پھوڑ کرنا، تشدد، ہراساں کرنا پی ٹی آئی کی تاریخ ہے، کبھی بھی ان کا احتجاج پرامن نہیں رہا۔

 یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعددارلحکومت پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق کوئی اکائی دوسری اکائی یا وفاق کے خلاف ایسی مارچ نہیں کرسکتا جو غیر قانونی ہو۔

وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ  اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ پی ٹی آئی والے پرامن رہیں گے؟ اچھا ہوتا کہ پی ٹی آئی ہمارے ساتھ کارکردگی میں مقابلہ کرتے۔

Scroll to Top