کیا پشتونوں کا خون اتنا سستا ہے؟ صحافی کے سوال پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بڑھک گئے، صحافی نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات سے متعلق سوال کیا ، کہ کیا آپ کی دہشتگردی صوبے میں ہونے والے دہشتگردے کے واقعات پر نہیں ہونی چاہیے؟
صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے پشتو زبان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ( اول گل پہ سہ دی او سیدا گل پہ سہ دی) ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم ادھر عمران خان کی صحت کے معاملے میں لگے ہوئے اور آپ کیا بول رہے ہیں ۔
کوہاٹ پھر لہو لہو، لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو پارٹی چیئرمین کی صحت و رہائی کی فکر ہے جبکہ کوہاٹ کے سانحے میں شہید ہونے والوں کے بچوں کی فکر بالکل بھی نہیں ، معصوم شہریوں کے جاں بحق ہونے پر عوامی سطح پر سوالات اٹھ گئے۔
کوہاٹ میں دہشت گردی کی ایک ہولناک واردات میں 21 افراد شہید اور زخمی ہو گئے، جس کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
اس المناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کے ان مسلسل واقعات کو روکنے میں غفلت کیوں برتی جا رہی ہے۔
عوام کی جانب سے یہ شکوہ بھی کیا جا رہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں بعض سیاسی رہنما عوامی دکھ درد کا مداوا کرنے کے بجائے سیاسی بیانات اور تحفظات تک محدود ہیں۔
مقامی لوگوں اور متاثرہ طبقے کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کا خون اس قدر سستا کیوں ہو گیا ہے، اور آخر کب تک اس خطے کے باسی اس عذاب کا نشانہ بنتے رہیں گے؟
عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے سانحات کے بعد محض مذمتی بیانات کافی نہیں ہیں، بلکہ تمام متعلقہ اداروں اور قیادت کو سنجیدگی سے پالیسی کا جائزہ لے کر دہشت گردی کے اس ناسور کا مستقل اور عملی قلع قمع کرنا ہوگا۔





