اسلام آباد: انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت سے منسلک ایک مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک پراکسی گروہوں کے ذریعے سرگرم ہے۔
پاکستانی انٹیلی جنس حکام کے مطابق را کی مبینہ سرپرستی میں کام کرنے والا یہ نیٹ ورک افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے اور بلوچستان و خیبرپختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے لیے تربیت، مالی معاونت اور پناہ کی غرض سے افغان سرزمین کو مبینہ طور پر استعمال کر رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ بھارت اپنی سرزمین پر علیحدگی پسند اور عسکریت پسند تشدد کی حمایت کے لیے افغان علاقے کو استعمال کرتا ہے۔ اسلام آباد کی جانب سے یہ معاملہ سفارتی فورمز پر بھی متعدد بار اٹھایا گیا، جبکہ ڈوزیئرز کے ذریعے مبینہ شواہد بھی پیش کیے گئے۔
تاہم بھارت اور افغانستان کی طالبان حکومت ماضی میں ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہیں۔
دوسری جانب دی نیوز کی جانب سے اس ہفتے جائزہ لیے گئے ایک خفیہ دستاویز میں اس معاملے سے متعلق مزید دعوے سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صف اول کی ریاست کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے، عاصم افتخار
دستاویز کے مطابق را، افغانستان کے انٹیلی جنس نظام اور طالبان حکومت کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ایک مبینہ مستقل انتظام موجود ہے، جس کے تحت پاکستان میں حملوں میں ملوث عسکریت پسند گروہوں کو تربیت، مالی معاونت اور پناہ فراہم کی جاتی ہے۔
دستاویز میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو اس مبینہ نیٹ ورک سے منسلک پراکسی گروہوں میں شامل قرار دیا گیا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق ان گروہوں کو بیرون ملک سے مبینہ طور پر مالی وسائل، تربیت اور پناہ فراہم کی جاتی ہے، جس کا مقصد پاکستان میں بدامنی اور تشدد کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔
دستاویز میں ایک اور دعویٰ کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر کالعدم تنظیم القاعدہ برصغیر کو بھی اسی مبینہ نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا گیا ہے، جسے پاکستان میں حملوں کے لیے تیار رکھنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
پاکستانی سکیورٹی اداروں کی جانب سے جمع کی گئی انٹیلی جنس کے حوالے سے دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ تقریباً 2025 میں سامنے آیا، جبکہ اس کی بنیاد افغانستان میں پہلے سے موجود تربیتی کیمپوں پر رکھی گئی تھی۔
دستاویز کے مطابق ان تربیتی کیمپوں کو افغانستان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کی مبینہ حمایت حاصل تھی۔





