کوہاٹ: اولڈ پولیس لائنز کی مسجد کے قریب خودکش حملے کے بعد متصل انسداد دہشتگردی عمارت میں داخل ہونے والے حملہ آوروں کے خلاف سکیورٹی فورسز کا آپریشن تاحال جاری ہے، جبکہ حملے میں شہداء کی تعداد 22 ہوگئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز دوپہر ایک بج کر 21 منٹ پر دھماکے کے بعد حملہ آور انسداد دہشتگردی کی عمارت میں داخل ہوئے اور اسلحہ خانے میں پناہ لے لی، جس کے بعد سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان مسلسل مقابلہ جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران اب صرف ایک مقام سے فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں، جس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ایک حملہ آور باقی رہ گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اسے بھی جلد ہلاک کرکے آپریشن مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کی محفوظ مقامات پر موجودگی کے باعث رات کے وقت عمارت گرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم ڈرون کے ذریعے جائزے میں عمارت کے اندر بعض زخمی یا زندہ اہلکاروں اور پولیس اہلکاروں کی لاشوں کی موجودگی کا پتا چلا، جس کے باعث عمارت گرانے کا فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : کوہاٹ واقعے کا ایک اور زخمی چل بسا ، تعداد 22 ہوگئی
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر حملہ آور مارے جاچکے ہیں جبکہ ایک یا دو حملہ آوروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ آپریشن مکمل ہونے کے بعد حملہ آوروں کی حتمی تعداد سمیت شہداء اور زخمیوں کی درست تعداد بھی واضح ہوسکے گی۔
حملے کے دوران پاک فوج کی کمانڈ نے فرنٹ لائن پر موجود رہ کر آپریشن کی قیادت کی۔ ذرائع کے مطابق کمانڈرز جوانوں کے شانہ بشانہ میدان میں موجود رہے، جبکہ پاک فوج اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کے ذریعے حملہ آوروں کو ایک محدود علاقے تک محدود کردیا۔
دوسری جانب کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد کے قریب خودکش حملے کا ایک اور زخمی دم توڑ گیا، جس کے بعد شہداء کی تعداد 22 ہوگئی ہے۔ شہداء میں 15 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
کمشنر کوہاٹ کے مطابق شہداء میں ڈی ایچ کیو کے چلڈرن اسپیشلسٹ ڈاکٹر اسرائیل اور ایس پی ٹریفک اکبر شنواری بھی شامل ہیں۔
کمشنر کے مطابق خودکش حملے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ بعض زخمیوں کو علاج کے لیے پشاور منتقل کیا گیا ہے جبکہ دیگر زخمیوں کا مختلف ہسپتالوں میں علاج جاری ہے۔
ادھر سکیورٹی ذرائع کے مطابق پولیس لائنز پر خودکش حملہ کرنے والے حملہ آور کی شناخت بھی کرلی گئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خودکش بمبار کا نام مطیع اللہ تھا اور اس کا تعلق افغانستان سے تھا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ روز نماز جمعہ کے وقت کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد کے قریب حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد حملہ آوروں کے خلاف سکیورٹی آپریشن شروع کیا گیا جو تاحال جاری ہے۔





