طاہر رشید
کوہاٹ : وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کوہاٹ کے غیور عوام اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے بڑے حملے کو ناکام بنا کر شجاعت اور بہادری کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
کوہاٹ کے دورے کے موقع پر پختون ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشکل گھڑی میں زخمیوں اور شہداء کے لواحقین کے بلند حوصلے دیکھ کر ان کا اپنا فخر مزید بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد بزدل ہیں جو ہمیشہ پیٹھ پر وار کرتے ہیں، جن کا کوئی دین و ایمان نہیں، اور وہ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔ ایک شہید کے والد کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں بھی خاندان کا عزم اور چٹان کی طرح کھڑا ہونا قابلِ تقلید ہے۔
پولیس اہلکاروں کی دلیری کو سراہتے ہوئے عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ چھٹی پر موجود جوانوں نے فوراً وردی پہن کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، جس پر پوری قوم کو ان پر ناز ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کوہاٹ پولیس لائنز خودکش حملہ، مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج
خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبے میں وسائل کی کوئی کمی نہیں، اصل مسئلہ حکمرانوں کی نیت کا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت امن و امان (لا اینڈ آرڈر) کے لیے بھاری فنڈز ملتے ہیں، مگر پچھلے ساڑھے بارہ سالوں میں صوبائی حکومت ایک بھی بڑا قابلِ ذکر پراجیکٹ ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہے۔
سیف سٹیز پراجیکٹ، فارنزک لیبز اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، جبکہ سارا زور سوشل میڈیا پروپیگنڈا اور ویڈیوز بنوانے پر ہے۔
انہوں نے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب کوہاٹ میں خون بہہ رہا تھا، تب وزیراعلیٰ سیاسی مقاصد کے لیے لاہور میں ویڈیوز بنوا رہے تھے۔
اگر صوبائی حکومت مخلص ہوتی تو وہ کوہاٹ آ کر تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور عمائدین کے ساتھ بیٹھتی اور مشاورت کرتی، نہ کہ ہیلی کاپٹر پر پندرہ منٹ کا نمائشی دورہ کرکے واپس چلی جاتی۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں، بلکہ صحت اور تعلیم کے شعبے بھی زبوں حالی کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : کوہاٹ پولیس لائنز حملہ، ایلیٹ فورس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن مکمل، 8 دہشتگرد ہلاک
صوبائی حکومت نے نہ تو کوئی نئی معیاری یونیورسٹی بنائی اور نہ ہی طلباء کو لیپ ٹاپ دیے گئے۔ اس کے برعکس جنگلات کے درخت کاٹنے اور مائنز کے ٹھیکوں میں کرپشن کے ذریعے اپنے لوگوں کو نوازا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کے اسلام آباد سے متعلق بیان کو گیدڑ بھبکی قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو تباہ کرنے کے بعد اب اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی باتیں کی جا رہی ہیں، جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنید اکبر اپنے اس غیر ذمہ دارانہ بیان پر پوری قوم سے معافی مانگیں اور صوبائی صدر کے عہدے سے مستعفی ہوں۔
مریم نواز کے بیان کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
مریم نواز نے صرف یہ کہا تھا کہ امن و امان صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے پختونخوا حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
وفاقی وزیر نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پورا پاکستان ایک ہے اور وفاق پختون قوم کے جذبے، حب الوطنی اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔





