خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، زمینی و فضائی آپریشن میں 37 دہشت گرد جہنم واصل

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گرد واقعات کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کوہاٹ، ہنگو اور تھل کے علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کیں، جن کے بعد دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو فضائی حملوں کے ذریعے بھی نشانہ بنایا گیا۔

20 ستمبر 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے کوہاٹ اور ہنگو اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ گراؤنڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران درست اور مؤثر انداز میں کیے گئے آپریشن کے نتیجے میں بھارتی پراکسی گروپ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 9 خوارج ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

ذرائع کے مطابق قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر پاک افغان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک دہشت گرد تنظیموں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو بھی انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے 3 اہم اہداف تباہ کیے گئے، جن میں خودکش بمباروں کی تربیت کے لیے قائم ایک مرکز بھی شامل تھا۔ ان کارروائیوں میں 28 دہشت گرد، متعدد خودکش بمباروں سمیت، ہلاک ہوئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے مراکز اور خفیہ ٹھکانوں میں ذخیرہ کیا گیا بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کے انٹیلی جنس بیسڈ فضائی حملے، 28 دہشت گرد ہلاک

پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے کوششیں کی ہیں، تاہم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز کا موجود رہنا پاکستان کے لیے باعثِ تشویش ہے اور پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا خطرہ افغانستان سے منسلک ہے۔

حکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کے مراکز کو ہی نشانہ بنایا گیا اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں کہ کسی قسم کا کولیٹرل ڈیمیج نہ ہو۔

سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ”عزمِ استحکام” کے وژن کے تحت جاری انسدادِ دہشت گردی مہم ”غضب لِلحق” بھرپور رفتار سے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کارروائیوں کا مقصد ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔

Scroll to Top