27 ستمبر کو ہونے والے لانگ مارچ کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے سنگین خدشات اور الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مارچ کی آڑ میں سیاسی مقاصد کے ساتھ ساتھ غیرقانونی سرگرمیوں کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی، جنید اکبر، مینا خان اور شفیع جان سمیت بعض سیاسی کارکن عوامی اجتماع کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، منشیات، اسلحے، غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں اور ممنوعہ اشیا کی سمگلنگ کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
ماضی میں 9 مئی اور 26 نومبر کے پرتشدد واقعات کے تناظر میں بھی سیاسی اجتماعات کے دوران امن و امان کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے بچنے کا نیا منصوبہ، سہیل آفریدی فرمائشی گرفتاری کے لیے لاہور پہنچ گئے
اسی لیے 27 ستمبر کے مارچ کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ غیرقانونی سرگرمی کی روک تھام کے لیے مؤثر انتظامات کریں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر مارچ کے حوالے سے غیرقانونی سرگرمیوں یا تشدد کے خدشات موجود ہیں تو ان کی غیرجانبدارانہ تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر کارروائی ضروری ہے، تاکہ پرامن سیاسی سرگرمی اور قانون کی خلاف ورزی کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جا سکے۔





