لاہور: پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج کی کال کے بعد جہاں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، وہیں پی ٹی آئی رہنماؤں اور بانی چیئرمین کی بہنوں کی گرفتاریوں کا معاملہ بھی خبروں کا مرکز بن گیا ہے۔ مخالفین کی جانب سے ان گرفتاریوں کو طنزیہ طور پر فرمائشی گرفتاریاںقرار دیا جا رہا ہے۔
دو سال سے کبھی ایک شہر تو کبھی دوسرے شہر میں سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں، تاہم 27 ستمبر کا احتجاج قریب آتے ہی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی سیاسی منظرنامے میں نمایاں ہوگیا ہے۔
اسی دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بھی بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے معاملے پر لاہور پہنچ گئے ہیں۔ مخالفین کی جانب سے ان کے لاہور پہنچنے کو بھی ’’فرمائشی گرفتاری‘‘ کی تیاری قرار دیا جا رہا ہے۔
مخالفین کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کے احتجاج سے بچنے اور سیاسی دباؤ کم کرنے کے لیے گرفتاریوں کو ایک نئے سیاسی بیانیے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ کارکنوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ قیادت بھی گرفتاریوں کا سامنا کر رہی ہے۔
علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد یہ بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے کہ احتجاج سے قبل گرفتاریوں کا معاملہ محض قانونی کارروائی ہے یا اسے سیاسی طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی اسے سیاسی کارروائی قرار دیتی ہے، جبکہ مخالفین اسے احتجاج سے پہلے سیاسی ماحول بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : 27 ستمبر کا احتجاج،علیمہ خان کے بعد نورین نیازی نے بھی فرمائشی گرفتاری دے دی
مخالفین کے مطابق معاملہ صرف علیمہ خان کی گرفتاری تک محدود نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست میں بڑے احتجاج سے قبل گرفتاریوں اور سیاسی بیانیے کو نمایاں کرنے کا انداز ماضی میں بھی دیکھنے میں آتا رہا ہے۔
اسی تناظر میں عمران خان کے 2023 کے زمان پارک واقعے کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے، جب ان کی ٹانگ پر پلستر کے معاملے نے سیاسی سطح پر خاصی بحث کو جنم دیا تھا۔ اس وقت عمران خان کی جانب سے ٹانگ میں فریکچر کا مؤقف سامنے آیا تھا، جبکہ سیاسی مخالفین کی جانب سے اس معاملے پر مختلف دعوے اور سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔
یوں 27 ستمبر کے احتجاج سے پہلے علیمہ خان کی گرفتاری اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لاہور پہنچنے کے معاملے نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست، سیاسی بیانیے اور گرفتاریوں کے معاملے کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
جبکہ مخالفین اسے 27 ستمبر کے احتجاج سے بچنے اور کارکنوں کو سیاسی طور پر متحرک رکھنے کے لیے ’فرمائشی گرفتاریوں‘ کا سلسلہ قرار دے رہے ہیں۔





