کوہاٹ: کوہاٹ پولیس لائنز میں ہونے والے دھماکے سے متعلق بم ڈسپوزل یونٹ کی تفصیلی رپورٹ تیار کرکے سنٹرل پولیس آفس ارسال کردی گئی ہے، جس میں دھماکے کے مرکز، استعمال ہونے والے بارودی مواد کی نوعیت اور مقدار کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس لائنز دھماکے میں 869 کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں بننے والے گڑھے کا ظاہری قطر 6.6 بائی 11 فٹ جبکہ گہرائی 4.6 فٹ ریکارڈ کی گئی۔
بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کی ابتدائی شناخت کرلی گئی ہے، جبکہ واقعے میں انتہائی طاقتور دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق سپیشل برانچ کی عمارت کے اندر سے نہ پھٹنے والا دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ گراؤنڈ فلور سے 2 آئی ای ڈیز جبکہ پہلی منزل سے ایک خودکش جیکٹ برآمد کی گئی، جس میں 4 آئی ای ڈیز نصب تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : 13 سال گزر گئے، اربوں روپے خرچ ہوگئے، پشاور کا چلڈرن ہسپتال تاحال غیر فعال
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے کے بعد علاقے کو محفوظ اور کنٹرولڈ قرار دیا گیا۔
دھماکے کے بعد حملہ آور پرانی پولیس لائنز کوہاٹ میں داخل ہوئے اور سپیشل برانچ بلاک میں مضبوط مورچہ قائم کیا۔
یاد رہے کہ 18 ستمبر کو پرانی پولیس لائنز کوہاٹ میں دھماکا ہوا تھا، جس کے بعد بم ڈسپوزل یونٹ نے جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کرکے اپنی رپورٹ مرتب کی۔





