اسلام آباد کے تمام داخلی راستے کھلے، شہری افواہوں پر کان نہ دھریں، پولیس

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں اور مختلف اہم شاہراہوں و داخلی راستوں پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پمز اور پولی کلینک ہسپتالوں میں ہائی الرٹ نافذ کرتے ہوئے طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جاسکے۔

احتجاج کے پیش نظر پنجاب اور سندھ سمیت دیگر علاقوں سے بھی پولیس نفری طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت میں اضافی سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ تمام داخلی و خارجی راستے فی الحال کھلے ہیں اور شہر کے اندر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ پولیس نے شہریوں کو افواہوں پر کان نہ دھرنے اور راستوں کی صورتحال سے متعلق صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایس پی انڈسٹریل ایریا ڈاکٹر ایاز کے مطابق کسی بھی راستے کی ممکنہ بندش کا فیصلہ احتجاج کی صورتحال اور عوام کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کو کسی بھی ممکنہ تبدیلی سے بروقت آگاہ کیا جائے گا۔

پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ٹریفک اور راستوں کی بندش سے متعلق غیرمصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کریں۔ سڑکوں کی صورتحال کے بارے میں معلومات کے لیے اسلام آباد پولیس کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ایف ایم ریڈیو سے نشر ہونے والی اطلاعات کو مستند سمجھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : یہ 27 ستمبر ذرا گزر جائے، پھر دیکھتا ہوں کون میرے پارلیمنٹرین کو گرفتار کرتا ہے،سہیل آفریدی

راولپنڈی انتظامیہ کے مطابق شہر کے تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے ہیں اور تعطیلات کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انٹرا سٹی اور بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ بحال ہے، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان رابطہ سڑکیں بھی کھلی ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق راولپنڈی میں فی الحال کوئی شاہراہ بند نہیں کی گئی، تاہم امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے راستوں کی بندش سے متعلق شہریوں کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب سیاسی جماعتوں کے احتجاج اور لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے 22 ستمبر سے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان اداروں کو مختلف صوبوں سے سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے آنے والے پولیس اہلکاروں کی رہائش کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق بند کیے جانے والے اداروں میں جی-6، ایف-6، ایف-7، جی-7، جی-8، جی-9، جی-10، جی-13 اور آئی-9 سمیت مختلف سیکٹرز کے اسکولز اور کالجز شامل ہیں۔

اس کے علاوہ بری امام، ملپور، ترنول، سہالہ، پہاگ پنوال، ایچ-9 اور راول ڈیم کے علاقوں میں واقع بعض تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے، جبکہ وفاقی دارالحکومت کے دیگر تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ جماعت اسلامی اور کسان اتحاد کی جانب سے بھی وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کی کالز دی گئی ہیں۔ ان اعلانات کے بعد انتظامیہ نے سکیورٹی اور ٹریفک سے متعلق انتظامات مزید سخت کردیئے ہیں۔

آپ کے اصل متن میں اندرون شہر ٹریفک معمول کے مطابق اور موجودہ رپورٹس میں اہم شاہراہوں پر رکاوٹوں سے متعلق مختلف اطلاعات ہیں، اس لیے خبر میں اسلام آباد پولیس کا تازہ مؤقف الگ واضح رکھا گیا ہے۔

Scroll to Top