فضل شکور کی مبینہ گمشدگی کیس، پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب

کامران علی شاہ
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر فضل شکور کی مبینہ اغوا اور گمشدگی کے خلاف دائر درخواست پر پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کے تفتیشی افسر کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

کیس کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 21 ستمبر کو ٹول پلازہ کے قریب سے صوبائی وزیر فضل شکور کو کالے کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر اٹھا لیا۔ وکیل کے مطابق واقعے کے دوران گاڑی پر فائرنگ بھی کی گئی۔

وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس واقعے کا براہِ راست الزام پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہے، کیونکہ موقع پر پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکار موجود تھے۔

دوسری جانب پولیس کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے اور پولیس کی جانب سے معاملے کی شفاف انداز میں تفتیش کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹی ٹی پی کو اسلحہ فراہمی کیس کا فیصلہ، ملزم کو 9 سال قید اور جرمانہ

سماعت کے دوران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی نے اس معاملے پر آئی جی خیبر پختونخوا کو طلب کیا تھا، تاہم وہ پیش نہیں ہوئے۔

اس پر جسٹس اعجاز انور نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ تو صوبائی حکومت کی کمزوری ہے کہ اسپیکر اسمبلی کی طلبی پر بھی آئی جی پیش نہیں ہو رہے۔

اے اے جی نے عدالت سے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی استدعا کی، تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جوڈیشل کمیشن کا قیام عدالت کا نہیں بلکہ صوبائی حکومت کا اختیار ہے۔

پشاور ہائیکورٹ نے تفتیش میں ہونے والی پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، جبکہ کیس کی مزید سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کردی۔

Scroll to Top