کامران علی شاہ
پشاور: 9 مئی 2023 کو ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پولیس نے اینٹی ٹیررازم کورٹ تھری پشاور میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) اور نادرا رپورٹس کی روشنی میں مکمل تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی۔
پولیس رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزراء تیمور سلیم جھگڑا اور کامران خان بنگش، پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم اور عامر خان چمکنی کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عدالت کی ہدایت پر 9 مئی کے واقعے سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو فرانزک جانچ کے لیے بھجوائی گئی تھیں، جبکہ مختلف افراد کی شناخت کے لیے نادرا سے بھی معاونت حاصل کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری، کابینہ کے اہم فیصلے
پولیس کے مطابق فرانزک رپورٹ میں فراہم کردہ پروفائل تصاویر اور ویڈیوز میں دکھائی دینے والے افراد کے درمیان شناختی مطابقت کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس سے قبل عدالت نے پولیس کی ابتدائی رپورٹ کو نامکمل اور محض رائے پر مبنی قرار دیتے ہوئے PFSA اور نادرا رپورٹس کی بنیاد پر مکمل تفتیشی ریکارڈ اور جامع حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں 75 ملزمان پہلے ہی ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پولیس کی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں مزید پانچ افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں۔
پولیس رپورٹ میں نام شامل ہونے کے بعد ان افراد کے خلاف آئندہ قانونی کارروائی عدالت میں موجود ریکارڈ اور متعلقہ قانون کے مطابق آگے بڑھے گی۔





