پشاور: 27 ستمبر کو تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ اور احتجاج کے تناظر میں پشاور جانے والی غلیلوں سے بھری گاڑی کو تحویل میں لے لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق 23 ستمبر کو پشاور میں لانگ مارچ کے لیے جانے والی غلیلوں سے بھری ایک گاڑی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحویل میں لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑی میں موجود احتجاجی سامان نذرِ آتش کرنے کے بعد ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی۔
پی ٹی آئی کی احتجاج کے نام پر انتشار کی تیاری
پشاور میں لانگ مارچ کے لیے جانے والی غلیلوں کی کھیپ پکڑی گئی۔ 23 ستمبر کو پشاور میں لانگ مارچ کے لیے جانے والی غلیلوں سے بھری گاڑی کو تحویل میں لے لیا گیا۔ احتجاجی سامان نذرِ آتش کرکے ڈرائیور کو گرفتار اور گاڑی کو قبضے میں لے لیا pic.twitter.com/6bA2TTjWgk— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) September 24, 2026
ذرائع کے مطابق کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو احتجاج اور لانگ مارچ کی تیاریوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہروں کے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف میں کہا گیا ہے کہ مختلف مواقع پر احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات، توڑ پھوڑ اور امن و امان کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے ادارے ممکنہ صورتحال کے پیش نظر پیشگی اقدامات کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سوچ سمجھ کر آنا،اسلام آباد سے کچھ لیکر نہیں بلکہ دیکر جاؤ گے،وزیردفاع کا پی ٹی آئی کو پیغام
تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج اور حالیہ بیانات کے تناظر میں حکومت کے اقدامات پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام کو مبینہ طور پر اشتعال دلانے اور بدامنی کی طرف لے جانے والے عناصر کے خلاف بروقت کارروائی ریاستی رٹ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
بیان کے مطابق تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کی جانب سے گزشتہ چند روز کے دوران دیے گئے بیانات میں عوام کو احتجاج اور مزاحمت پر اکسانے کی کوشش کی گئی۔ مؤقف میں کہا گیا کہ متعلقہ عناصر کے خلاف کارروائی بروقت اور مناسب قدم ہے۔
بیان میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، جنید اکبر، علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان میں اشتعال انگیزی کا عنصر نمایاں ہے۔
بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی ریاست میں کھلم کھلا تشدد یا بدامنی کی ترغیب دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بیان میں 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ماضی کے واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے ریاستی اداروں کی جانب سے پیشگی اقدامات کا مقصد کسی بھی ممکنہ جانی یا مالی نقصان سے بچاؤ ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : انتشاری مارچ کے ذریعے انتشار پھیلانے کی کوششیں، حکومت کا شرپسند عناصر کے خلاف ایکشن
مزید کہا گیا کہ احتجاج اور آزادی اظہار آئینی حق ہیں، تاہم کسی بھی گروہ کو ریاستی یا عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسرے بیان میں تحریک انصاف کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ بعض رہنماؤں کی جانب سے دھمکی آمیز زبان استعمال کی جا رہی ہے اور عوام کو اشتعال دلایا جا رہا ہے۔
رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیان میں پانی بند کرنے سے متعلق مبینہ دھمکیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور سوال اٹھایا گیا کہ ایسے اقدامات سے عام شہری متاثر ہوں گے۔
بیان میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کے باعث ماضی میں سڑکوں کی بندش اور دھرنوں سے عام شہریوں کے کاروبار اور روزگار کو نقصان پہنچا۔
ریاستی تنصیبات کو نقصان پہنچانے اور پانی کی فراہمی متاثر کرنے کی مبینہ دھمکیوں کو سنگین قرار دیتے ہوئے بیان میں تحریک انصاف کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔





