آخر ایک صوبائی حکومت کی جانب سے کب تک وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کی کوششیں ہوتی رہیں گی؟ وزیر دفاع

آخر ایک صوبائی حکومت کی جانب سے کب تک وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کی کوششیں ہوتی رہیں گی؟ وزیر دفاع

وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا دیئے۔

ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو محض  پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمی، احتجاج یا لانگ مارچ کے تناظر میں دیکھنا اصل مسئلے سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
اانہوں نے کہا کہ آخر ایک صوبائی حکومت کی جانب سے کب تک وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کی کوششیں ہوتی رہیں گی؟ آخر صوبائی حکومت پر براجمان پارٹی کب تک ملک کے وفاقی اداروں کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی جاری رکھے گی اور اسکے کیا نتائج نکلیں گے؟

وزیر دفاع نے سوال کیا کہ کیا خیبرپختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرے کے مقابلے میں صوبائی حکومت نے اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داری پوری کی ہے؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب سےپی ٹی آئی کی حکومت پختونخواہ میں بنی ہے۔ ایک ہی ایجنڈا رکھا ہے ، اپنی جیبیں گرم کرنا ،سرکاری خزانہ لوٹنا ، لوٹ کے مال کا حصہ لیڈرشپ کو پہنچانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا جرم پی ٹی آئی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لا تعلقی بلکہ انکو بھتے کی صورت میں مالی وسائل مہیا کرنا ہے۔ اس طرح پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ ہے۔

خواجہ محمد آصف نے یہ بھی کہا کہ شہداء کے جنازوں میں صوبائی حکومت کی عدم موجودگی، ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ یکجہتی سے انخراف، دہشت گردی کے لیے سازگار بیانیہ بنانا اور سہولت کاری ، پولیس اور سی ٹی ڈی  کی استعداد میں مطلوبہ اضافے سے نظر کشی، اور ضم شدہ اضلاع میں مؤثر گورننس پر عمداً کوئی توجہ نہ دینا جیسے انتظامی معاملات بھی زیرِ نظر رکھنے چاہئیں۔

Scroll to Top