ترک صدر رجب طیب اردوان نے مکہ دفاعی معاہدے کو خطے کے امن و سلامتی کے لیے درست سمت میں ایک مضبوط قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اتحاد کے ذریعے علاقائی مسائل کے علاقائی حل کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ اتنے حساس اور پیچیدہ خطے میں اس نوعیت کا اہم اقدام سامنے آئے تو مختلف آزمائشوں کا سامنا ہونا فطری ہے۔
نئی سوچ اور نئی سیاسی قوتِ ارادی سے بعض حلقے ضرور پریشان ہوں گے، مکہ دفاعی اتحاد کی ادارہ جاتی تشکیل کا عمل مکمل ہونے کے بعد یہ تعاون مزید مضبوط ہوگا۔
بیرونی طاقتوں کی جانب سے خطے کے لیے سیکیورٹی کے فارمولے مسلط کرنے کے نتیجے میں اکثر زیادہ عدم استحکام پیدا ہوا ہے، اس لیے اب خطے کے ممالک کو اپنے مسائل کے حل میں خود آگے آنا ہوگا۔
صدر اردوان نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے خطے کے مسائل کا علاقائی حل تلاش کرنے کی بنیاد رکھی گئی ہے، امید ہے اس اتحاد کی بنیاد مستقبل میں مزید مضبوط اور مؤثر تعاون کی صورت اختیار کرے گی۔
صدر اردوان نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام میں 190 سے زائد ممالک کی رائے صرف پانچ ممالک کے ویٹو اختیار سے محدود ہو جاتی ہے، ایسے غیر منصفانہ نظام کے ذریعے عالمی امن و استحکام کا مؤثر تحفظ ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سلامتی نظام میں ویٹو کا موجودہ طریقہ کار ختم ہونا چاہیے اور ایسا نظام قائم کیا جانا چاہیے جو تمام رکن ممالک کو زیادہ منصفانہ نمائندگی فراہم کرے۔ جنرل اسمبلی کو بھی زیادہ بااختیار اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔





