پختونخوا میں بدامنی، بے روزگاری اور تعلیمی مسائل، حکومت کی ترجیحات پر بڑا سوال

پشاور: خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی طویل حکمرانی کے باوجود صوبے کے مختلف اضلاع کے شہری تعلیم، امن و امان، روزگار اور بنیادی سہولیات کی صورتحال پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

بنوں سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع کے شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے تو کیے گئے، تاہم زمینی صورتحال ان دعوؤں سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔

شہریوں کے مطابق گزشتہ حکومتوں کے دور میں طلبہ کو مفت فراہم کی جانے والی کتابیں اب کئی مقامات پر دستیاب نہیں، جبکہ بعض علاقوں میں رقم ادا کرنے کے باوجود بھی کتابیں نہ ملنے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔

صوبے کے شہریوں کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بدامنی اور بے روزگاری کے مسائل بھی موجود ہیں، تاہم ایسے حالات میں حکومتی توجہ سیاسی سرگرمیوں اور لانگ مارچ پر زیادہ نظر آنے پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بنوں سے لے کر پشاور، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، کرک، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، سوات، دیر، چترال، مردان، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، ہنگو اور دیگر اضلاع میں عوام کو امن و امان، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سیف سٹی کیمرے توڑے تو 20 لاکھ روپے تک جرمانہ، نیا آرڈیننس منظور

کوہاٹ کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے شہریوں نے شفیع جان کی جانب سے ٹک ٹاک ویڈیو بنانے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے وزیراعلیٰ ہاؤس سے مذمتی بیان جاری کرنے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اسے ووٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور علاج کے لیے ملا ہے تو پھر عوام کے بنیادی مسائل، امن و امان، تعلیم اور روزگار جیسے معاملات کی ذمہ داری کون لے گا؟

خیبر پختونخوا کے شہریوں کے مطابق عوام اپنے منتخب نمائندوں سے سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ امن و امان کے قیام، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بھی عملی اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔

Scroll to Top