پشاور: حیات آباد چلڈرن ہسپتال کا منصوبہ 4 سال میں مکمل ہونا تھا، لیکن 14 سال گزرنے کے باوجود بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔
دستاویز کے مطابق حیات آباد چلڈرن ہسپتال کا منصوبہ 2012 میں منظور کیا گیا تھا، جس کی ابتدائی لاگت 2.2 ارب روپے مقرر کی گئی تھی، تاہم منصوبے میں تاخیر، ڈیزائن میں تبدیلی اور فنڈز سے متعلق مسائل کے باعث لاگت بڑھ کر 7.96 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ہسپتال کا تعمیراتی کام 95 فیصد مکمل ہوچکا ہے، جبکہ طبی آلات اور دیگر ریونیو اجزا کی تکمیل کا تناسب 54 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں مبینہ بے ضابطگیوں پر اینٹی کرپشن کی اوپن انکوائری شروع
منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے مزید 1.796 ارب روپے درکار ہیں، جبکہ جنریٹر کی خریداری پر 501.4 ملین روپے خرچ ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہسپتال کو فعال کرنے اور آپریشنل اخراجات کی مد میں 3 ارب روپے سے زائد درکار ہیں۔
دستاویز کے مطابق ہسپتال کی تکمیل، جنریٹر کی خریداری اور آپریشنل اخراجات سمیت منصوبے کو مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 5.3 ارب روپے مزید درکار ہیں۔
یوں 4 سال میں مکمل ہونے والا منصوبہ 14 سال بعد بھی مکمل طور پر فعال نہیں ہوسکا، جبکہ بڑھتی لاگت اور مزید درکار فنڈز نے منصوبے کی تکمیل کو ایک بڑا مالی چیلنج بنا دیا ہے۔





