افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت، ستمبر میں 39 کارروائیوں میں 69 طالبان اہلکار ہلاک،30 زخمی

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں مسلسل شدت آ رہی ہے اور اس کا دائرہ ملک بھر میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ رجیم اندرونی طور پر بکھراؤ کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کابل، سرپل، قندھار، بدخشان، کنڑ، نورستان، پروان اور پکتیا میں مزاحمتی گروہوں کی جانب سے 10 مسلح کارروائیاں کی گئیںجن میں طالبان کی چیک پوسٹوں، گاڑیوں، اجتماعات اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 17 طالبان اہلکار ہلاک اور 10 زخمی ہوئے ہیں۔

افغانستان فریڈم فرنٹ نے نورستان اور سرپل میں کارروائیاں تیز کرتے ہوئے طالبان کی متعدد پوزیشنز پر قبضہ کر لیا ہے اور نورستان و کنڑ کے بعض علاقوں سے رجیم فورسز کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

دوسری جانب سابق افغان آرمی جنرل سمیع سادات کی قیادت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے قندھار، کابل اور بدخشان میں طالبان کے کمانڈ اور انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے پکتیا، سالنگ اور قندھار میں طالبان کی عسکری گاڑیوں اور سیکیورٹی چوکیوں پر حملے کیے ہیں۔

رواں ماہ ستمبر کے دوران اب تک افغانستان بھر میں 39 مسلح مزاحمتی کارروائیاں ہو چکی ہیں، جن میں مجموعی طور پر 69 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک اور 30 زخمی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر خود کش حملے کی اطلاعات ،پے در پے دہشت گردانہ حملوں کے باوجود صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کہاں ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ شدت اس بات کی عکاس ہے کہ جبر اور طاقت کے ذریعے حکمرانی کرنے والی حکومتوں کی گرفت وقت کے ساتھ کمزور ہوتی ہے اور بالآخر قائم کردہ نظام اندر سے بکھرنے لگتا ہے۔

Scroll to Top