خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر مختلف سیاسی رہنماؤں اور اراکینِ پارلیمنٹ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور دہشتگردی سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
وفاقی وزیر اور سینیٹر امیر مقام نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔
وزیراعظم کے مشیر اختیار ولی خان نے کوہاٹ میں پیش آنے والے دہشتگردی کے واقعے کو اندوہناک قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ترجیحات کچھ اور ہیں اور ڈرامے کرنے اور فلمیں دیکھنے سے صوبے نہیں چلتے۔
ثمر ہارون بلور نے بھی خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال میں وزیراعلیٰ کی غیر سنجیدگی کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات کے باوجود اسلام آباد مارچ کی کال دینا قابلِ افسوس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا سمبلی میں قانون سازی کی آڑ میں اراکین کو غیر معمولی اختیارات دینے کا انکشاف
مرتضیٰ جاوید عباسی نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت پر تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو صوبے میں دہشتگردی سے کوئی سروکار نہیں جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہے ہیں۔
علی خان یوسفزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا شہداء کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے اور صوبے کی پولیس کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے، انہوں نے صوبائی حکومت سے سوال کیا کہ 804 ارب روپے کہاں گئے؟
ارباب خضر حیات نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے جبکہ صوبائی حکومت کو اسلام آباد مارچ کی فکر ہے، انہوں نے صوبائی حکومت کو کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت اپنا وقت پورا کر چکی ہے۔
سیاسی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔





