فضل نبی
نوشہرہ : خیبرپختونخوا کے وزیر صحت میاں خلیق الرحمان خٹک نے ہڑتال پر موجود ینگ ٹرینی ڈاکٹرز (TMOز) کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے اور ان کے سٹائپنڈ کو دیگر صوبوں کے برابر بلکہ اس سے بھی بہتر کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔
پختون ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ٹی ایم اوز نے سٹائپنڈ میں اضافے کے مطالبے پر ہڑتال شروع کر رکھی ہے، جبکہ حکومت نے رواں سال ان کے سٹائپنڈ میں 15 فیصد اضافہ کیا تھا۔
اس کے علاوہ سالانہ 5 فیصد اضافے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہونا تھا، تاہم بجٹ کے عمل کے باعث اس معاملے میں کچھ وقت لگا۔
میاں خلیق الرحمان خٹک نے کہا کہ اس دوران بعض عناصر نے صورتحال سے فائدہ اٹھایا اور ہسپتالوں میں احتجاج شروع ہوگیا، جس سے ایک غیر ضروری ماحول پیدا ہوا۔
حکومت ینگ ٹرینی ڈاکٹرز کے نمائندوں کے ساتھ تین سے چار مرتبہ مذاکرات کرچکی ہے اور ان کے مطالبات پر تفصیلی بات چیت بھی ہوئی ہے۔
صوبائی وزیر صحت کے مطابق حکومت نے ڈاکٹرز سے مذاکراتی کمیٹی کے لیے نمائندوں کے نام بھی طلب کیے ہیں۔ کمیٹی میں محکمہ خزانہ، پی جی ایم آئی اور مختلف میڈیکل کالجز کے ڈینز کو شامل کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ کمیٹی دیگر صوبوں میں ٹی ایم اوز کو دیے جانے والے سٹائپنڈ کا جائزہ لے گی، باقاعدہ حساب کتاب کرے گی اور اس حوالے سے سفارشات مرتب کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کے 37 مراکز صحت کی مینجمنٹ اور آپریشنز آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ
میاں خلیق الرحمان خٹک نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات سامنے آنے کے بعد وہ خود ایڈوائزر فنانس کے ساتھ بیٹھ کر معاملے کو آگے بڑھائیں گے اور کابینہ سے منظوری لینے کی کوشش کریں گے۔
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ میں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ میں ان کا سفیر بن کر ان کا کیس خود لڑوں گا، اور سال کے اختتام تک ان کے تمام مطالبات منظور کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ ینگ ٹرینی ڈاکٹرز ہڑتال ختم کرکے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور تمام مسائل باہمی مشاورت سے حل کیے جائیں۔
مذاکراتی عمل میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے میاں خلیق الرحمان خٹک نے کہا کہ ڈاکٹرز کے وفود مذاکرات کے لیے آتے ہیں، کئی مرتبہ بات چیت کامیاب بھی ہوجاتی ہے اور حکومتی پیغام ریکارڈ بھی کیا جاتا ہے، تاہم وفود کے واپس جانے کے بعد دوبارہ وہی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔
ان کے بقول ممکن ہے کہ حکومتی مؤقف اور پیغام ڈاکٹرز تک درست انداز میں منتقل نہ ہورہا ہو، جس کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں ڈینگی کے مشتبہ کیسز میں اضافہ، ایک ہفتے میں 135 کیسز کی تصدیق
صوبائی وزیر صحت نے واضح کیا کہ حکومت کا وعدہ ہے کہ ٹی ایم اوز کے سٹائپنڈ کو دیگر صوبوں کے برابر کیا جائے گا، بلکہ اسے مزید بہتر بنانے اور اضافے کی بھی کوشش کی جائے گی۔
میاں خلیق الرحمان خٹک نے کہا کہ ینگ ٹرینی ڈاکٹرز کی ہڑتال کا براہِ راست اثر غریب اور عام مریضوں پر پڑتا ہے، جو علاج کے لیے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔
ہڑتال کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ ڈاکٹرز کا قیمتی وقت ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی ٹریننگ بھی متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے ینگ ٹرینی ڈاکٹرز سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال ختم کرکے مذاکراتی عمل میں واپس آئیں، اپنے مطالبات اور تحفظات حکومت کے سامنے رکھیں اور بااختیار کمیٹی کے ذریعے تمام معاملات کا قابلِ عمل حل تلاش کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں حکومت، ڈاکٹرز اور مریضوں سمیت سب کی بہتری ہے۔





