پاکستان میں دہشتگردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، عطا تارڑ اور طلال چوہدری

اسلام آباد: وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، جبکہ گزشتہ اڑھائی سے 3 سال کے دوران بیشتر دہشتگرد گروپس افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ افغانستان ایک ’’سپر پراکسی‘‘ کے طور پر کام کر رہا ہے اور دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے گروپس افغانستان سے پاکستان آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے واقعات کو جہاد قرار نہیں دیا جاسکتا، ایسے حملوں میں ملوث افراد کو ڈالرز کے عوض استعمال کیا جاتا ہے۔

وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ ڈی آئی خان کے امن میلے کی چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشتگرد حملے میں خواتین اور بچے بھی شہید ہوئے، جبکہ دو ریسکیو اہلکاروں نے بھی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کے مطابق دہشتگرد کارروائیوں کے بعد اپنے ہلاک ہونے والے ساتھیوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں۔

طلال چوہدری نے بتایا کہ ڈی آئی خان واقعے میں ملوث ایک دہشتگرد کی تصویر فوری طور پر نادرا کے نظام میں ڈالی گئی، تاہم اس شخص کا کوئی شناختی ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نادرا میں جدید نظام موجود ہے جس میں تصویر ڈالنے کی صورت میں دستیاب ڈیٹا سامنے آجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں اوپن سورس معلومات کی مدد سے معلوم ہوا کہ مذکورہ دہشتگرد افغانستان کے دارالحکومت کابل کا رہائشی تھا۔ وزیر مملکت کے مطابق دہشتگرد اکثر جعلی نام استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سرکاری ریکارڈ میں ان کی شناخت مشکل ہوجاتی ہے۔ طلال چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران دہشتگردوں کی تصاویر اور دستیاب تفصیلات بھی میڈیا کے سامنے پیش کیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے خیبر پختونخوا حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مؤثر انداز میں کھڑی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق صوبے کی سیاسی قیادت نے گزشتہ 14 سال کے دوران سیکیورٹی فورسز کو وہ قیادت اور وسائل فراہم نہیں کیے جن کی ضرورت تھی۔

طلال چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نہ فرانزک لیب موجود ہے اور نہ ہی سیف سٹی کا مؤثر نظام، جبکہ پنجاب کے اضلاع تک سیف سٹی کا نظام موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کے اختیارات بھی واپس لیے گئے اور انہیں مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ دہشتگردی کے واقعات کے بعد پریس کانفرنسز میں افغانستان کا نام کیوں نہیں لیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوہاٹ واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کہیں نظر نہیں آئے، تاہم ڈی آئی خان واقعے کے بعد وہ وہاں پہنچے۔

طلال چوہدری کے مطابق صوبائی حکومت کو انسداد دہشتگردی سے متعلق اجلاسوں میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے، لیکن وہ ان اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی کے پیسوں کے لیے خیبر پختونخوا کی قیادت اسلام آباد آجاتی ہے، مگر انسداد دہشتگردی کے اجلاسوں میں شرکت اور سیکیورٹی معاملات میں مطلوبہ دلچسپی نہیں دکھائی جاتی۔

وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ پاکستان نے قیام امن کے لیے مختلف راستے اختیار کیے، جن میں ڈوزیئرز اور ٹیبل ٹاک بھی شامل تھے، تاہم دہشتگردی کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردوں کے سہولت کار اور حملہ آور مشرقی اور مغربی سرحدوں کے پار موجود ہیں جبکہ پراکسیز کو مشرقی سرحد سے بھی اسپانسر کیا جاتا ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، گزشتہ اڑھائی سے 3 سال کے دوران متعدد دہشتگرد گروپس افغانستان سے پاکستان آتے رہے ہیں اور ملک میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں 70 فیصد ملوث افراد افغان شہری پائے گئے ہیں۔

Scroll to Top