پشاور ہائیکورٹ کا جامعات میں انتظامی عہدوں پر اساتذہ کی تعیناتی سے متعلق اہم فیصلہ

کامران علی شاہ
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کی جامعات میں انتظامی عہدوں پر اساتذہ اور غیر انتظامی عملے کی طویل مدتی تعیناتی سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔

8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس کامران حیات میانخیل نے تحریر کیا۔ عدالت نے صوبے کی جامعات کو ہدایت کی ہے کہ انتظامی نوعیت کے عہدوں پر متعلقہ انتظامی افسران کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے قانونی تقاضوں پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ یونیورسٹی ایکٹ 2012 کی دفعہ 17-A کے تحت انتظامی عہدوں پر تقرری کے عمل میں قانون کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ جامعات کو ہدایت کی گئی ہے کہ انتظامی عہدوں پر تعیناتی کرتے وقت متعلقہ قانونی طریقہ کار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی انتظامی عہدے کے لیے موزوں انتظامی افسر دستیاب نہ ہو تو قانون کے مطابق متعلقہ افسر کی تعیناتی کا عمل مکمل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا اینیمل ویلفیئر ایکٹ پر عملدرآمد کیلئے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع

پشاور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ اساتذہ یا دیگر غیر انتظامی عملے کو طویل عرصے تک مستقل بنیادوں پر انتظامی عہدوں پر تعینات رکھنے سے گریز کیا جائے۔

عدالت کے مطابق تدریسی اور انتظامی ذمہ داریوں کے درمیان قانون کے مطابق واضح تفریق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

عدالت نے خیبرپختونخوا کی تمام جامعات کو اپنے اداروں میں انتظامی عہدوں پر موجودہ انتظامات کا جائزہ لینے اور قانون کے مطابق ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

فیصلے میں جامعات میں انتظامی اور تدریسی ذمہ داریوں کو الگ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں نوعیت کی ذمہ داریوں کے درمیان قانونی تقاضوں کے مطابق تفریق برقرار رکھی جائے۔

پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد صوبے کی جامعات میں انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں کے موجودہ طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لینے اور متعلقہ قانونی تقاضوں پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

Scroll to Top