اسلام آباد: انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے 26 نومبر احتجاج کیس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
اے ٹی سی کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے جنید اکبر اور دیگر ملزمان کے خلاف بھی وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو جلد چالان پیش کرنے کی ہدایت کی، بعد ازاں سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
عدالت اس سے قبل بھی ملزمان کے گرفتاری وارنٹ جاری کرچکی تھی، جو اب دوبارہ جاری کیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج ہے۔ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان پر احتجاج کے دوران مبینہ جلاؤ گھیراؤ اور دیگر سنگین الزامات سے متعلق دفعات عائد کی گئی ہیں۔
9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس
دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے 28 ستمبر کو 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو ملزمان نامزد کرنے کے معاملے کو برقرار رکھا تھا۔
عدالت نے تفتیش میں استعمال ہونے والی فرانزک اور شناختی رپورٹس سے متعلق اسپیشل پراسیکیوٹر کی درخواست مسترد کردی تھی۔
پولیس نے فرانزک ویڈیو تجزیے اور نادرا سے شناخت کی تصدیق کے بعد سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش، پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم اور ایک دیگر پارٹی کارکن کو مقدمے میں ملزمان نامزد کیا تھا۔
پنجاب فرانزک ایجنسی نے 16 ویڈیوز کا تجزیہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ چار پی ٹی آئی رہنماؤں کے چہرے ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد سے مشابہت رکھتے ہیں۔
تاہم فرانزک رپورٹ صرف شناخت تک محدود تھی اور اس سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا تھا کہ ویڈیوز میں دکھایا گیا واقعہ ریڈیو پاکستان حملے ہی سے متعلق ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر شہری برہم، سہیل آفریدی کی تبدیلی کا مطالبہ
یہ مقدمہ 9 مئی 2023 کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے پرتشدد احتجاج کے دوران ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت میں توڑ پھوڑ اور آتشزدگی سے متعلق ہے۔
انسداد دہشتگردی عدالت اس سے قبل پولیس کی جانب سے پیش کی گئی تفتیشی رپورٹ کو نامکمل اور غیر حتمی قرار دیتے ہوئے مسترد کرچکی ہے۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو پنجاب فرانزک ایجنسی اور نادرا کی رپورٹس شامل کرکے جامع تفتیشی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اے ٹی سی پہلے ہی اس مقدمے میں 75 ملزمان کے خلاف ٹرائل کررہی ہے۔ ان پر جون 2025 میں مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے، تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔
پشاور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد اضافی ملزمان کے خلاف بھی اے ٹی سی میں کارروائی جاری رکھنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی نے سماعت کے بعد کہا کہ مقدمے میں سزا کی صورت میں سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ عہدے پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جن میں ممکنہ نااہلی شامل ہے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی بھی حتمی نتیجہ مقدمے کے فیصلے اور قابل اطلاق قانون سے مشروط ہوگا۔





