خیبرپختونخوا پولیس کے لہو پر پختونخوا حکومت کا 200 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا داغ، جوانوں کو نہتا کر کے ترقیاتی فنڈز ہڑپ، تہلکہ خیز انکشافات

پشاور:خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس کے لیے مختص فنڈز اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبے میں انفراسٹرکچر اور تعمیرات کے نام پر 200 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز تقسیم کیے گئے، جبکہ متعدد ترقیاتی منصوبے صرف فائلوں تک محدود رہے اور کمیشن مخصوص افراد تک پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے پسماندہ اضلاع اور بارڈر ایریاز میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے دوران آئی جی پولیس خیبر پختونخوا نے فورس کے تحفظ، نائٹ ویژن آلات، جدید اسلحے اور بلٹ پروف چوکیوں کے لیے 42 ارب روپے کے ہنگامی فنڈز کی باضابطہ سمری صوبائی حکومت کو بھجوائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : سی سی پی او پشاورکی کرپشن کے خلاف کارروائی، 13 اہلکار برطرف

رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ نے صوبائی امن اور پولیس کے تحفظ کے لیے تجویز کردہ 42 ارب روپے کے سیکیورٹی بجٹ کو کم کرکے 14 ارب روپے تک محدود کردیا۔

مزید رپورٹ کے مطابق پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے متعدد مرتبہ درخواستوں کے باوجود منظور شدہ 14 ارب روپے میں سے اب تک صرف 1.4 ارب روپے جاری کیے گئے، جو مطلوبہ 42 ارب روپے کے فنڈز کا تقریباً 3.3 فیصد بنتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جلسوں اور اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے صوبائی وسائل فوری طور پر دستیاب ہوجاتے ہیں، تاہم فرنٹ لائن پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے لیے ہتھیار اور دیگر حفاظتی وسائل فراہم کرنے کے معاملے میں فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹریفک چالان میں لاکھوں روپے غبن، سابق فوکل پرسن کو 22 سال قید اور 93 لاکھ روپے جرمانہ

رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کی ترجیحات کے باعث پولیس اہلکاروں کو ضروری وسائل کی کمی کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں وہ دہشت گردوں کے لیے آسان ہدف بن رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے 200 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز اور ان کے استعمال کے حوالے سے بھی اہم سوالات سامنے آئے ہیں، جبکہ پولیس کو ضروری وسائل کی فراہمی کا معاملہ بھی زیرِ بحث ہے۔

Scroll to Top