سوات میں طالب علم کو حجرے میں لے جا کر بدسلوکی، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

شہزاد نوید

سوات میں طالب علم کو مبینہ طور پر حجرے میں لے جا کر اسلحے کی نوک پر بدسلوکی کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

وائرل ویڈیو کے مطابق طالب علم کے ساتھ مبینہ طور پر اس کے کلاس فیلوز نے نجی حجرے میں بدسلوکی کی۔ ویڈیو میں طالب علم سے پستول کی نوک پر یونیفارم اترواتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ڈی پی او سوات نے نوٹس لیتے ہوئے ویڈیو میں موجود دونوں ملزمان کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ شہریوں نے بھی ملزمان کو فوری گرفتار کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب سکول انتظامیہ نے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو تعلیمی ادارے کے احاطے میں ریکارڈ نہیں کی گئی بلکہ ایک نجی حجرے میں شام کے وقت بنائی گئی۔

انتظامیہ کے مطابق طالب علم جب سکول سے چھٹی کے بعد گھر پہنچتے ہیں تو ان کی نگرانی، موبائل فون کے استعمال، دوستوں اور صحبت کے بارے میں معلومات رکھنا بنیادی طور پر والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے۔ کسی تعلیمی ادارے سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ چھٹی کے بعد طلبہ کے گھروں، حجروں، ہوٹلوں یا دیگر نجی مقامات پر ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرے۔

یہ بھی پڑھیں : سوات: پیسوں کے لین دین پر فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق، دوملزمان گرفتار

سکول انتظامیہ نے کہا کہ کسی نجی مقام پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو کو معروف تعلیمی ادارے سے منسوب کرنا درست نہیں۔ انتظامیہ کے مطابق غیر متعلقہ نجی واقعے کے ساتھ ادارے کا نام جوڑنے سے ادارے کی ساکھ اور اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے، اس لیے ادارہ اپنے قانونی حقوق محفوظ رکھتا ہے۔

انتظامیہ نے ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلانے کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث بچے کم عمر ہیں اور ان کی غلطی اپنی جگہ، تاہم ویڈیو کو بار بار شیئر کرنے سے بچوں، ان کے والدین اور خاندانوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بیان میں عوام سے اپیل کی گئی کہ ویڈیو کو ڈاؤن لوڈ یا آگے شیئر نہ کیا جائے، بچوں کی شناخت ظاہر نہ کی جائے اور کسی ادارے یا خاندان کا نام بغیر تصدیق کے ویڈیو کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے۔

سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچوں کی اصلاح اور تربیت ضروری ہے، تاہم کسی بچے کی غلطی کو سوشل میڈیا پر پھیلا کر اسے پوری زندگی کا داغ بنانا مناسب نہیں۔

انتظامیہ نے والدین سے بھی اپیل کی کہ بچوں کو موبائل فون فراہم کرنے کے ساتھ ان کی نگرانی اور رہنمائی بھی کی جائے، جبکہ ان کے دوستوں، صحبت اور سوشل میڈیا سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جائے۔

پولیس کی جانب سے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے حوالے سے مزید پیش رفت جاری ہے۔

Scroll to Top