حکومت کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل اور پارٹی قیادت کی طرف سے کسی واضح حکمت عملی کے عدم وجود نے پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں اور عام کارکنان میں شدید خوف، اضطراب اور بے یقینی کی لہر پیدا کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پر کارکنان کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالات سے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے احتجاجی تحریک اپنی شروعات سے پہلے ہی مکمل جمود کا شکار ہو چکی ہے۔
پارٹی ورکرز کی جانب سے قیادت کے فیصلوں پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کارکنوں کا موقف ہے کہ حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات میں بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کی شرط ایجنڈا شامل ہی نہیں تو ایسے مذاکرات کا آخر کیا مقصد ہے؟ اس کے ساتھ ساتھ 2 اکتوبر کے حوالے سے طے شدہ لائحہ عمل یا آئندہ کے کسی واضح پروگرام کا اعلان نہ ہونا ورکرز کے لیے شدید مایوسی اور غصے کا باعث بن رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت اور اپوزیشن مذاکرات: پی ٹی آئی کے مطالبات پر واضح حکومتی موقف سامنے آ گیا
قیادت کی طرف سے بروقت ہدایات اور حتمی سمت کا تعین نہ ہونے کے سبب ملک بھر میں پی ٹی آئی کے فعال ورکرز مکمل طور پر الجھن اور بے سمتی کا شکار ہیں۔





