پشاور: پشاور کی صارف عدالت نے صارف کی اجازت کے بغیر ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے 40 ہزار روپے منتقل ہونے کے کیس میں ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کو رقم واپس کرنے، صارف کو 25 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرنے اور حکومت کو 25 ہزار روپے جرمانہ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
صارف عدالت کے جج نصراللہ خان گنڈاپور نے صارف فہدالرحمان کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے شکایت جزوی طور پر منظور کرلی۔ فیصلہ 3 اکتوبر 2026 کو سنایا گیا۔
عدالت میں دائر درخواست کے مطابق فہدالرحمان نے 14 فروری 2026 کو خاندان کی ضروریات کے لیے اپنے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے 50 ہزار روپے نکلوانے کے لیے مقامی سروس فراہم کنندہ کی دکان کا رخ کیا، تاہم اس وقت اکاؤنٹ میں تقریباً 11 ہزار روپے موجود تھے۔
درخواست گزار کے مطابق اس سے قبل اکاؤنٹ میں 50 ہزار روپے سے زائد رقم موجود تھی۔ ٹرانزیکشن ہسٹری چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ 12 فروری کو اکاؤنٹ سے تین الگ الگ ٹرانزیکشنز کے ذریعے مجموعی طور پر 40 ہزار روپے منتقل کیے گئے تھے۔
عدالت کے مطابق 10 ہزار روپے عمران ٹریڈرز، 22 ہزار روپے سوئفٹ کلیکٹ سسٹم جبکہ 8 ہزار روپے ایزی آن لائن سروس کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے مذکورہ ٹرانزیکشنز خود نہیں کیں اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کو رقم منتقل کرنے کی اجازت دی۔
اس کے مطابق اسے متنازع ٹرانزیکشنز کے حوالے سے ای میل کے ذریعے بھی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ مالیاتی اور الیکٹرانک ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے پر مناسب احتیاط، معقول سکیورٹی اور متوقع معیار کے مطابق خدمات فراہم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی نے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، کوہاٹ میں پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ، 4 اہلکار زخمی
فیصلے کے مطابق ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کو متعدد طریقوں سے نوٹس کی تعمیل کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے پر یکطرفہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث شکایت کنندہ کے الزامات ناقابل تردید رہے۔
عدالت نے ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کو غیرمجاز ٹرانزیکشنز کے ذریعے منتقل ہونے والی 40 ہزار روپے کی رقم واپس کرنے، صارف کو ذہنی اذیت اور دیگر نقصانات کے ازالے کے لیے 25 ہزار روپے معاوضہ ادا کرنے جبکہ حکومت کو 25 ہزار روپے جرمانہ جمع کرانے کا حکم دیا۔





