کوہاٹ : خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 4 اہلکار زخمی ہوگئے۔
نامعلوم افراد کی گولیوں سے 4 اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جبکہ صوبے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی ذمہ داریاں ترک کرکے اور عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے نکل پڑے ہیں۔ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور حکومت کی ترجیحات پر شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے کوہاٹ کی شادی پور چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی تو حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔
فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے چاروں پولیس اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں 4 کسٹم اہلکار شہید
اس سے ایک روز قبل ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 کسٹم اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق واقعہ قریشی موڑ ابھایہ پل کے قریب تھانہ گومل یونیورسٹی کی حدود میں پیش آیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹریفک پولیس موبائل پر حملہ
ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کا ایک اور واقعہ تھانہ ڈیرہ ٹاؤن کی حدود میں مفتی محمود چوک کے قریب پیش آیا، جہاں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : مانسہرہ میں مبینہ غیرت کے نام پر نوجوان لڑکا اور لڑکی قتل
حملے میں کانسٹیبل ڈرائیور محمد حبیب شہید، جبکہ ہیڈ کانسٹیبل سبحان خان شدید زخمی ہوگئے۔
صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافے کے باعث امن و امان کی صورتحال پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران صوبے میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر دوسرا حملہ بتایا گیا ہے۔
ٹانک میں بھی ٹریفک پولیس موبائل نشانہ بنی
28 ستمبر 2026 کو ضلع ٹانک کے علاقے وزیر آباد میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 2 راہ گیر زخمی ہوگئے تھے۔
ٹانک کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے ترجمان کے مطابق شہید اہلکاروں میں کانسٹیبل سلیم شاہ، کانسٹیبل گل امین اور ڈرائیور فیاض الدین شامل تھے۔
تھانہ سٹی پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل سوار حملہ آور فرار ہوتے ہوئے پولیس اہلکاروں کا اسلحہ بھی ساتھ لے گئے تھے۔
لکی مروت میں 3 افراد شہید
27 ستمبر کو ضلع لکی مروت میں بھی دہشتگردوں کی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 3 افراد شہید جبکہ 3 زخمی ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا حکومت کی توجہ عوامی مسائل کے بجائے ٹک ٹاک اور لانگ مارچ پر ہے،نور العین خالق
اس سے ایک روز قبل 26 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 35 زخمی ہوئے تھے۔
کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران حملہ
18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 23 افراد شہید جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
خیبر پختونخوا بالخصوص جنوبی اضلاع، طویل عرصے سے بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے واقعات کی زد میں ہیں۔ بنوں، لکی مروت اور شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
صوبے میں مسلسل پیش آنے والے دہشتگردی کے واقعات کے باعث امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے صوبائی حکومت کی ترجیحات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی بنیادی توجہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کی بہتری پر ہونی چاہیے۔
آئینی طور پر شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست اور صوبائی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بڑھتے ہوئے حملوں نے عوام کے اندر عدم تحفظ اور بے چینی کو جنم دیا ہے۔





