پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا اور درخواست خارج کردی۔
درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے وکیل اور الیکشن کمیشن کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔
الیکشن کمیشن کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ 25 نومبر 2025 کو اسی نوعیت کی ایک درخواست عدالت پہلے ہی خارج کرچکی ہے۔ الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ درخواست ناقابلِ سماعت ہے اور درخواست گزار کے خلاف ابھی کوئی حتمی کارروائی نہیں کی گئی، جبکہ انکوائری ابتدائی مرحلے میں ہے۔
وزیراعلیٰ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 25 نومبر 2025 کو وزیراعلیٰ کو نوٹس بھیجا گیا تھا، جس میں الیکشن عملے کے خلاف بیان دینے اور انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ نے جو تقریر کی تھی وہ این اے 18 ہری پور کے حلقے کی حدود سے باہر کی گئی تھی۔ ان کے مطابق ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے الیکشن ایکٹ کی دفعہ 234 کے تحت نوٹس جاری کیا، جبکہ الیکشن کمیشن نے دفعہ 15 کے تحت بھی نوٹس کیا۔
یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی کیس میں بڑا سوال، الیکشن کمیشن کا سوموٹو ایکشن قانون کے خلاف کیسے؟ جسٹس ارشد علی کے ریمارکس
وزیراعلیٰ کے وکیل نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایک نجی شکایت کو بھی کلب کرکے سوموٹو نوٹس لیا، جبکہ ڈی ایم او کے اختیارات بھی الیکشن کمیشن خود استعمال کر رہا ہے۔
وکیل کے مطابق ڈی ایم او جرمانہ عائد کرتا ہے اور الیکشن کمیشن اس پر تین دن کے اندر فیصلہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں الیکشن کمیشن نے بھی نوٹس کیا اور ڈی ایم او نے بھی کارروائی کی، جبکہ ڈی ایم او نے الیکشن کمیشن کو رپورٹ بھی بھیجی۔
اس موقع پر جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کو آپ کو سننے دیں، آپ کہہ دیں جو بھی آپ کا جواب ہو۔ جسٹس ارشد علی نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن اس کے بعد شکایت سیشن جج کے سامنے بھی رکھے گا۔
جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ یہ تو الیکشن کمیشن کی انکوائری ہے، کوئی کارروائی تو نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی قانونی قدغن نہیں کہ الیکشن کمیشن انکوائری نہیں کرسکتا۔
وزیراعلیٰ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے پروسیس شروع کردیا ہے اور اس کے نتیجے میں درخواست گزار نااہل ہوسکتا ہے۔ وکیل نے مزید بتایا کہ اسی حلقے میں کیپٹن صفدر انتخابی مہم چلا رہے تھے، جس پر انہوں نے شکایت کی، تاہم ان کے مطابق اس پر نہ انکوائری ہوئی اور نہ ہی کوئی سماعت کی گئی۔
الیکشن کمیشن کے نمائندے نے بتایا کہ ڈی ایم او جس معاملے پر پینلٹی عائد کرتا ہے، وہ بھی الیکشن کمیشن کو بھیجتا ہے اور کمیشن تین دن میں فیصلہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو جس زمرے میں نوٹس کیا گیا، وہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد کے گھیراؤ کی سیاست 2014 سے پی ٹی آئی کا ایجنڈا ہے، رانا ثنا
الیکشن کمیشن نے عدالت سے درخواست خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست قبل از وقت دائر کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ ایک سیاسی بیان کو اتنا سنجیدہ کیوں لے رہے ہیں؟ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ وکلاء ججز اور چیف جسٹس کو بھی نہیں چھوڑتے جب خطاب کرتے ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی درخواست خارج کردی۔





