خیبر پختونخوا میں بدامنی، شہریوں کا ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا مطالبہ

 پشاور: خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی، دہشتگردی اور مسلسل سیاسی احتجاج سے تنگ شہریوں نے صوبائی حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے آئین کے تحت ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کردیا۔

 پختون ڈیجیٹل کے ایک حالیہ عوامی سروے میں شہریوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پالیسیوں، مبینہ کرپشن اور لانگ مارچز پر شدید تنقید کرتے ہوئے فوری وفاقی مداخلت کی اپیل کی ہے۔

 سروے میں گفتگو کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ کوئی غیر معمولی اقدام نہیں بلکہ ملکی آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے۔

 ان کے مطابق صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوچکا ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں، پولیس افسران اور جید علمائے کرام سمیت متعدد افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

 شہریوں کے مطابق صوبے کا کوئی بھی علاقہ اب مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا، جبکہ صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے بجائے دھرنوں اور احتجاجی سیاست میں مصروف ہے، جس سے انتظامی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد کے گھیراؤ کی سیاست 2014 سے پی ٹی آئی کا ایجنڈا ہے، رانا ثنا

 نئے ضم شدہ 5 اضلاع کی صورتحال پر شہریوں نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ سروے میں شریک افراد کے مطابق ان علاقوں میں دہشتگردی کے ساتھ ساتھ منشیات کا کاروبار بھی بے قابو ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔

 شہریوں نے بعض مقامی اراکین اسمبلی پر مبینہ کرپشن اور غیر قانونی سرگرمیوں کی درپردہ حمایت کے الزامات عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام عناصر کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔

 وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے شہریوں نے سوال اٹھایا کہ انہیں احتجاجی سرگرمیوں کے لیے اتنی کھلی چھوٹ کیوں دی گئی ہے۔ بعض شہریوں نے بعض منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کو مبینہ سرپرستی حاصل ہونے کے الزامات بھی عائد کیے۔

 ایمرجنسی یا گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سے متعلق سوال پر شہریوں نے موجودہ لانگ مارچ اور مسلسل احتجاجی سیاست کو صوبے اور ملک کے مفاد کے خلاف قرار دیا۔

 شہریوں کا کہنا تھا کہ محض سیاسی مفادات کے لیے جاری احتجاجی سرگرمیاں خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت اور مجموعی استحکام کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔

 ان کے مطابق سیاسی انتشار کا فوری خاتمہ ضروری ہے، کیونکہ جب تک لاقانونیت اور عدم استحکام برقرار رہے گا، دہشتگرد اور جرائم پیشہ عناصر کو پنپنے کے مواقع ملتے رہیں گے اور امن و امان مسلسل خطرے میں رہے گا۔

 خیبر پختونخوا گزشتہ کئی برسوں سے دہشتگردی کی لہر کی زد میں ہے۔ خاص طور پر سابق قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کے بعد ان اضلاع کو انتظامی، معاشی اور سیکیورٹی کے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز، پولیس اور عام شہریوں پر حملوں میں بھی تیزی آنے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

 دوسری جانب شہریوں کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت کی زیادہ تر توجہ وفاق کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی تحریکوں کی منصوبہ بندی پر مرکوز ہے، جس کے باعث گورننس اور امن و امان کے بنیادی معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : لوئر دیر میں ٹیکس نفاذ کے خلاف تاجروں کا احتجاج، سوات ایکسپریس وے بند

 عوامی سطح پر گورنر راج یا ایمرجنسی کا مطالبہ اس خوف اور مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو شہریوں کے مطابق مسلسل سیاسی عدم استحکام اور خراب سیکیورٹی صورتحال کے باعث پیدا ہوئی ہے۔

 شہریوں کا کہنا ہے کہ جب عوام اپنے منتخب نمائندوں سے تحفظ اور بہتر طرز حکمرانی کی امید کھو دیتے ہیں تو وہ ریاست کے سخت اور غیر معمولی آئینی اقدامات کی جانب دیکھنے لگتے ہیں۔

 ان کے مطابق امن و امان پر توجہ دینے کے بجائے وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کی حکمت عملی نے صوبے میں انتظامی خلا پیدا کردیا ہے، جس کا فائدہ جرائم پیشہ گروہوں اور دہشتگرد عناصر کو پہنچ رہا ہے۔

 شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی اور سیکیورٹی ترجیحات پر فوری نظر ثانی نہ کی گئی تو صوبے میں امن عامہ کا بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

Scroll to Top