پاکستان تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ شدید عوامی عدم دلچسپی اور سرد مہری کا شکار ہو چکا ہے جہاں پارٹی رہنماوں کی جانب سے کیے جانے والے دعوؤں کے برعکس زمینی حقائق انتہائی مختلف ہیں۔
تین دن کے مسلسل سفر اور مختلف اضلاع سے قافلوں کی آمد کے باوجود پی ٹی آئی کے اس احتجاجی کارواں میں عوام کا مطلوبہ جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا۔
اس وقت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ کا یہ قافلہ خیبر کی تحصیل باڑہ سے پشاور کی جانب رواں دواں ہے ۔
مختلف علاقوں اور اضلاع کے قافلے راستے میں شامل ہونے کے باوجود اس احتجاجی مارچ میں مجموعی طور پر شرکاء کی تعداد بمشکل تین سے چار ہزار افراد تک محدود رہی ہےجبکہ قافلے کے ہمراہ گاڑیوں کی تعداد بھی تین سو سے ساڑھے تین سو کے قریب ہے۔
پارٹی قیادت کی جانب سے عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر لانے کے دعوے کیے گئے تھےتاہم وزیر اعلیٰ کے اپنے آبائی ضلع سمیت دیگر علاقوں سے بھی شہریوں کی کثیر تعداد اس سیاسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنی۔
مارچ میں نمایاں رہنماؤں میں اراکین قومی اسمبلی اقبال آفریدی، شاندانہ گلزار اور شاہد خٹک شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی لانگ مارچ کے نام پر لکی ایرانی سرکس کر رہی ہے،میاں افتخار حسین
اس کے علاوہ قافلے کے ہمراہ شفیع جان، شیر علی آفریدی، عبد الغنی آفریدی، عدنان قادری اورڈاکٹر نبی جان بھی موجود ہیں۔





