گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت گورنر راج نہیں بلکہ نالائق حکومت مسلط ہے، پُرامن احتجاج پر اعتراض نہیں تاہم احتجاج کے نام پر انتشار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پشاور: بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صدرمملکت ، وزیراعظم اور متعلقہ ادارے سمجھیں کہ صوبے کو بچانے کیلئے ایمرجنسی یا گورنر راج ضروری ہے تو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایسا کیا جاسکتا ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ پُرامن احتجاج پر اعتراض نہیں تاہم احتجاج کے نام پر انتشار کی اجازت نہیں دی جائے گی، اپنے آئینی کردار سے پوری طرح واقف ہوں، آئین کے تحت گورنر صوبائی امور اور امن و امان کی صورتحال پر اجلاس طلب کرسکتا ہے۔
فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ آئی جی کو کسی ٹرانسفر یا پوسٹنگ کی ہدایت کی نہ ہی چیف سیکرٹری سے فنڈز مانگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر کے آئینی اختیارات کو چیلنج کرنے والے پہلے آئین کا مطالعہ کریں،احمد کریم کنڈی
انہوں نے کہا ہے کہ آئین کے تحت گورنر صوبائی امور اور امن و امان کی صورتحال پر اجلاس طلب کر سکتا ہے، حالیہ اجلاس کا مقصد صوبے کی صورتحال سے آگاہی حاصل کرنا تھا۔
گورنر نے کہا انہوں نے آئی جی کو کسی ٹرانسفر پوسٹنگ کی ہدایت کی نہ چیف سیکرٹری سے فنڈز مانگے، صوبائی حکومت کی جانب سے اجلاس کو غیر آئینی قرار دیئے جانے پر فیصل کریم کنڈی نے کہا وہ آئینی کردار سے پوری طرح واقف ہیں۔





