آئی ایم ایف نے یمن کی معیشت سے متعلق بڑا اعلان کردیا

آئی ایم ایف نے یمن کی معیشت سے متعلق بڑا اعلان کردیا

آئی ایم ایف کے مطابق سٹاف مانیٹرڈ پروگرام کے تحت یمن کو تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی، تاہم اس پروگرام میں براہ راست مالی امداد شامل نہیں۔

فنڈ نے یمن کی معاشی صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 2026 میں ملکی مجموعی پیداوار میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد کمی ہوئی جبکہ ملک کی معیشت مسلسل پانچ برس سے سکڑ رہی ہے۔

نئے پروگرام کا مقصد حکومتی مالیات مضبوط بنانا، ملکی آمدن میں اضافہ اور سرکاری اخراجات کو مؤثر بنانا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کا سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی میں دو لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر یمن میں 52 لاکھ سے زیادہ افراد اندرون ملک بے گھر ہیں اور آبادی کا تقریباً دو تہائی حصہ انسانی امداد کا محتاج ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ خوراک کے مطابق یمن میں ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ 22 لاکھ سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

Scroll to Top