صبیحہ شیخ
گومل یونیورسٹی کے ڈی وی ایم ڈیپارٹمنٹ کے 70 سے زائد طلباء نے World Poultry Expo لاہور میں شرکت کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم نہ کیے جانے کے خلاف سٹی کیمپس کے گیٹ پر پُرامن احتجاج کیا۔
طلباء کے مطابق وہ گزشتہ ایک ہفتے سے یونیورسٹی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں تھے اور ایکسپو میں شرکت کے لیے بس فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
اس سلسلے میں تمام ضروری کاغذات، درخواستیں اور دیگر مطلوبہ کارروائی بھی مکمل کی گئی، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے بس فراہم کرنے کی باقاعدہ یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
طلباء کا کہنا ہے کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ بس سہ پہر 3 بجے تک پہنچ جائے گی، جس پر ڈی وی ایم ڈیپارٹمنٹ کے 70 سے زائد طلباء مقررہ وقت سے سٹی کیمپس میں بس کے انتظار میں بیٹھے رہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں پے در پے واقعات، کرک میں ایس ایچ او اور گنر شہید
طلباء کے مطابق انتظار کے دوران انہیں بار بار یہ بتایا جاتا رہا کہ بس پانچ منٹ میں پہنچ رہی ہے، پھر کہا گیا کہ دس منٹ میں آئے گی اور بعد ازاں بتایا گیا کہ بس راستے میں ہے۔
طلباء کا کہنا ہے کہ کبھی فیول فراہم نہ کیے جانے کی بات کی گئی جبکہ کبھی یہ کہا گیا کہ فیول تو دیا جائے گا لیکن اس کا خرچہ طلباء کو برداشت کرنا ہوگا۔
طلباء کے مطابق سٹی کیمپس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نور محمد مروت کی جانب سے بھی متعدد مرتبہ بس کے پہنچنے کی یقین دہانی کرائی جاتی رہی، تاہم رات 8 بجے تک بس سٹی کیمپس نہیں پہنچی۔
طلباء کا کہنا ہے کہ وہ کئی گھنٹوں تک بس کے انتظار میں شدید پریشانی کا سامنا کرتے رہے۔ ان کے مطابق معاملہ صرف ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کا نہیں بلکہ طلباء کے وقت، اعتماد اور ان سے کیے گئے وعدوں کا بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ایس ایل 12 کی تاریخوں کا اعلان، 8 ٹیمیں ایک بار پھر میدان میں اتریں گی
طلباء نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر انتظامیہ کسی وعدے کو پورا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو تو اسے بروقت اور واضح طور پر طلباء کو آگاہ کرنا چاہیے، تاکہ وہ متبادل انتظام کرسکیں۔
اسی معاملے پر ڈی وی ایم ڈیپارٹمنٹ کے طلباء نے یونیورسٹی انتظامیہ کی مبینہ غفلت، غیر سنجیدگی اور وعدہ پورا نہ کیے جانے کے خلاف سٹی کیمپس کے گیٹ پر پُرامن احتجاج کیا۔
احتجاج کرنے والے طلباء نے گومل یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار افراد سے جواب طلب کیا جائے اور مستقبل میں طلباء کو اس قسم کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
طلباء نے مطالبہ کیا کہ ان کے وقت اور مستقبل کو اہمیت دی جائے، کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔





